elmoirfan علم و عرفان
اسلام علیگم

Welcome to the ELMOIRFAN FORUM

You are currently viewing our boards as a guest with limited access to view most discussions and access our other features. By joining our free community Registration is fast and simple!

If you have any problems with the registration process or your account login, please contact on sss_khani@yahoo.com.
become an active part of www.elmoirfan.englishboard.net now!
Regards
Forum Admin
elmoirfan علم و عرفان

علم و عرفان
 
HomeFAQSearchMemberlistUsergroupsRegisterLog in

Share | 
 

 شعلہ بیان یا سلگتا بیان

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Sultana
Super Moderator
Super Moderator


Posts : 19
Points - امتياز : 1572
Thanked - ووټ : 15
Join date : 2010-02-14

PostSubject: شعلہ بیان یا سلگتا بیان   Wed Mar 17, 2010 6:43 am

شعلہ بیان یا سلگتا بیان


ایک زمانہ تھا جب بھی کسی قوم کے اندر کسی تحریک کا آغاز ہوتا تو قائدین اپنی تحریروں اور تقریروں سے انقلاب برپا کر دیتے ۔ قوم میں ایک نیا جوش و ولولہ انگڑائیاں لیتا ۔منزل کی نشاندہی اس انداز میں کی جاتی کہ آغاز میں ہی کوشش سےکامیابی قدم چومنے لگتی۔ لیڈر صرف تقریریں نہیں کرتے تھے حقیقت میں اس پر عمل پیرا ہوتے ۔ قوم انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھتی ۔ان کی ایک آواز پر لبیک کہتی ۔ڈنڈا گولی سے ڈرنے کی بجائے سینہ تان کر سینہ سپر ہو جاتی۔ چاہے مسجد شہید گنج کا معاملہ ہو یا سانحہ جلیانوالہ باغ ہو ۔ آزادی کے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کی جاتی ۔انفرادی کوشش سے نہ تو تحریکیں چلیں اور نہ ہی حقوق کا حصول ممکن ہوا ہے ۔ قوموں کے اندر ہی سے ان کے رہنما پیدا ہوتے ۔ جو صحیح معنوں میں صرف حقوق کی آزادی کے لئے نہیں لڑتے بلکہ رہنمائی بھی کرتے ۔صحیح خطوط پر سیاسی وابستگی کا استعمال کیا جاتا ۔ ذاتی مفادات و کاروبار کا قریب سے بھی گزر نہیں ہوتا ۔عوام سے کئے گئے وعدے وفا ہوتے ۔ جن کے بل بوتے پر اسمبلی میں جاتے ۔ انہی کے لئے بے چین رہتے ۔جلسہ میں ہوتے یا اسمبلی میں اپنی شعلہ بیانی سے مجلس گرما دیتے ۔ ایسے شعلہ بیان مقرر جلسوں میں تقریر سے ، اخبارات میں اپنے کالموں سے نئی روح پھونک دیتے ۔تاریخ شاہد ہے کہ نئی نسل کو شعلہ بیان رہنماؤں نے ایک اچھے مستقبل کی نوید دلائی ۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں ۔لیڈر بہک چکے ہیں ۔قوم سہم چکی ہے ۔کیونکہ جب سے دنیا گلوبل ولیج بنی ہے ۔ انٹر نیٹ پر کاروبار ، اشتہارات ، اخبارات ، غرض میرے جیسے مضمون نگار بھی انٹر نیٹ پر پائے جاتے ہیں ۔ جنہیں کوئی بھی اپنے دو کالمی خبر کے قابل نہ سمجھے۔مگر کیا کریں ہمیں تو کام لینا نہیں آتا ۔کسی بڑے تعلق کا بھی مان نہیں ۔ صرف نماز میں ہی ہاتھ باندھنے سے خوشی ملتی ہے ۔جھکنا صرف سجدہ میں جانے کے لئے ہی اچھا لگتا ہے ۔ہمیں کوئی خواہش نہیں کہ بڑے لیڈر سے ربط بڑھے ۔ ٹی وی پر انٹرویو ان کا ہو اور گردن اُٹھا اُٹھا کر کیمرے کو منہ چڑاتے پھریں ۔ان کی فائلیں ، موبائل فون ، ڈائری کسی اور کے ہاتھ میں ہو اور وہ دونوں ہاتھ صرف سمیٹنے کےلئے خالی رکھیں ۔بھلا ہو لنڈے میں سستے داموں ملنے والے ٹو پیس سوٹ کا امیر غریب کا فرق مٹا دیا ۔صرف خالی ہاتھ دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ لیڈر یہی ہے ڈائری ، فائلیں، فون ہاتھ میں رکھنے والا اسسٹنٹ ہے ۔ حکومتیں جب بھی کوئی نیا بلدیاتی نظام متعارف کرواتی ہیں تو مقصد عوامی بھلائی نہیں ہوتا بلکہ اسسٹنٹ بنانے میں چھانٹی کا عمل ہے ۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ فائلیں اُٹھانے والے میسر ہوں ۔ قوم سمجھتی ہے کہ فائلوں میں وہ پراجیکٹ ہیں جو ان کی بھلائی واسطے شروع کئے جانے والے ہیں ۔ مگر وہ تو مہنگے پلاٹوں کی اوپن فائلیں ہوتیں جن کو بیچ کر پیسے کھرے کئے جاتے ہیں ۔مگر میں یہ کیا کر رہا ہوں کوئی نئی بات ہو تو یہاں ذکر کروں بھلا ان باتوں کا یہاں کیا تعلق ۔ سب ہی تو جانتے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی جانتے ہیں ۔ ایک آدھ واقعہ بیان کرنا وقت کا ضیا ع ہے قاری کا ۔پہلے کیا کم مسائل سے دوچار ہیں کہ اب پڑھنے کا بھی بوجھ ڈال دوں ان پر ۔ روزانہ ہی نت نئے تازہ حالات پر لب کشائی کی جاتی ہے اور میں ہوں کہ وہی پرانی باتوں کو لیکر بیٹھ جاتا ہوں ۔اب کیا کیا جائے نیا مصالحہ ملتا نہیں ورنہ ہم بھی سیاسی بریانی کی نئی دیگ تیار کر ہی دیں ۔پہلے خبریں گھروں تک پہنچانے والے سینہ گزٹ سے پیراستہ تھے ۔ اب خبریں گھروں سے باہر لائی جاتی ہیں ۔ میڈیا بہت آگے جاچکاہے ۔ ہم پیچھے پیچھے چل تو پڑے ہیں ۔ اب کہیں گر نہ پڑیں تیزی میں چلنے کی دوڑ میں ۔ بہت عرصہ ہوا کسی جلسہ میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا ۔ٹی وی پر تقاریر سننے کو مل جاتی ہیں ۔تقریریں بھی ایسی کہ آگ لگانے کی ضرورت ہی نہیں بھڑکی بھڑکائی ۔ ایک دن تقریر دوسرے دن تابڑ توڑ جوابی حملے ۔ کبھی صفائیاں تو کبھی تاویلیں ۔ ایک زمانہ تھا رہنما شعلہ بیان تھا ۔ آج کیا زمانہ ہے سلگتا بیان ہے ۔ چھپتے ہی آگ بھڑکا دیتا ہے ۔



سُلطانہ مُصطفیٰ


.
Back to top Go down
Admin
Admin & Managment
Admin & Managment
avatar

Male Capricorn Posts : 389
Points - امتياز : 1418
Thanked - ووټ : 43
Birthday : 1989-01-01
Join date : 2010-01-22
Age : 28
Location : Land of Technology
Job/hobbies : علم

PostSubject: Re: شعلہ بیان یا سلگتا بیان   Wed Mar 17, 2010 7:20 am

Thanks very nice or sabaq amoz topic hy kash humry hukmrano tak ye baty phnch jye but aj kal awam be wo nahi rahy jo pahly jazba rakty thy wo jazba kahi kho gia hain ar serf nam ky he muslman baki rahy na watan parasti hain na he din ka ahteram na awam ki fikar bas logo ko apny jeeb bhrny ki fikr rahti hy

**********

ELMOIRFAN
A PLACE FOR LEARNING AND TEACHING

_________________


«•´¨*•.¸¸.*¤~* Sheraz *~¤*.¸¸.•*¨`•»
«•´`•.(¸.•´(¸.•* *•.¸)`•.¸).•´`•»
*(¨`•.•´¨)*
`•.¸.•´

[You must be registered and logged in to see this image.]
Back to top Go down
http://elmoirfan.englishboard.net
chandani
Senior Member
Senior Member
avatar

Female Posts : 93
Points - امتياز : 189
Thanked - ووټ : 11
Join date : 2010-02-08
Location : Kabul
Job/hobbies : Talim Ul Quran and Internet

PostSubject: Re: شعلہ بیان یا سلگتا بیان   Wed Mar 17, 2010 7:23 am

Back to top Go down
red_eyes
Graphic Designer
Graphic Designer
avatar

Posts : 119
Points - امتياز : 214
Thanked - ووټ : 7
Join date : 2010-02-13

PostSubject: Re: شعلہ بیان یا سلگتا بیان   Wed Mar 17, 2010 7:29 am

Good ye app ki apni toic hain?
Back to top Go down
shahinsha
Senior Member
Senior Member
avatar

Posts : 106
Points - امتياز : 166
Thanked - ووټ : 2
Join date : 2010-01-31

PostSubject: Re: شعلہ بیان یا سلگتا بیان   Wed Mar 17, 2010 7:36 am



Allah kry app ki ye awaz door door tak chah jye
Back to top Go down
Sponsored content




PostSubject: Re: شعلہ بیان یا سلگتا بیان   

Back to top Go down
 
شعلہ بیان یا سلگتا بیان
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
elmoirfan علم و عرفان :: Languages :: Urdu – اردو-
Jump to: