elmoirfan علم و عرفان
اسلام علیگم

Welcome to the ELMOIRFAN FORUM

You are currently viewing our boards as a guest with limited access to view most discussions and access our other features. By joining our free community Registration is fast and simple!

If you have any problems with the registration process or your account login, please contact on sss_khani@yahoo.com.
become an active part of www.elmoirfan.englishboard.net now!
Regards
Forum Admin
elmoirfan علم و عرفان

علم و عرفان
 
HomeFAQSearchMemberlistUsergroupsRegisterLog in

Share | 
 

 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
shazia_rafiqi
Senior Member
Senior Member
avatar

Posts : 272
Points - امتياز : 599
Thanked - ووټ : 11
Join date : 2010-01-24

PostSubject: 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)   Wed Jul 21, 2010 12:45 am






مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 809 مکررات 0
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو شخص ان ناموں کو یاد کرے وہ جنت میں داخل ہوگا وہ اللہ ہے کہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اسم ذات اللہ کے علاوہ ننانوے نام یہ ہیں۔
(١) الرحمن(٢) الرحیم(٣) الملک(٤) القدوس(٥) السلام(٦) المومن(٧) المہیمن(٨) العزیز(٩) الجبار(١٠) المتکبر(١١) الخالق (١٢) الباری (١٣) المصور(١٤) الغفار(١٥) القہار(١٦) الوہاب(١٧) الرزاق(١٨) الفتاح(١٩) العلیم(٢٠) القابض (٢١) الباسط(٢٢) الخافض (٢٣) الرافع(٢٤) المعز(٢٥) المذل (٢٦) السمیع(٢٧) البصیر(٢٨) الحکم(٢٩) العدل (٣٠) اللطیف(٣١) الخبیر(٣٢) الحلیم(٣٣) العظیم(٣٤) الغفور (٣٥) الشکور(٣٦) العلی (٣٧) الکبیر (٣٨) الحفیظ(٣٩) المقیت (٤٠) الحسیب(٤١) الجلیل (٤٢) الکریم(٤٣) الرقیب (٤٤) المجیب (٤٥) الواسع(٤٦) الحکیم (٤٧) الودود (٤٨) المجید (٤٩) الباعث (٥٠) الشہید (٥١) الحق(٥٢) الوکیل(٥٣) القوی (٥٤) المتین(٥٥) الولی (٥٦) الحمید (٥٧) المحصی (٥٨) المبدی (٥٩) المعید (٦٠) المحی (٦١) الممیت (٦٢) الحی (٦٣) القیوم(٦٤) الواجد (٦٥) الماجد (٦٦) الواحد (٦٧) الاحد (٦٨) الصمد (٦٩) القادر(٧٠) القتدر (٧١) المقدم(٧٢) المؤخر(٧٣) الاول (٧٤) الآخر(٧٥) الظاہر(٧٦) الباطن (٧٧) الوالی (٧٨) المتعال (٧٩) البر(٨٠) التواب(٨١) المنتقم(٨٢) العفو (٨٣) الرؤوف(٨٤) مالک الملک(٨٥) ذوالجلال والاکرام(٨٦) المقسط(٨٧) الجامع(٨٨) الغنی (٨٩) المغنی (٩٠) المانع(٩١) الضار(٩٢) النافع (٩٣) النور (٩٤) الہادی (٩٥) البدیع (٩٦) الباقی (٩٧) الوارث (٩٨) الرشید (٩٩) الصبور۔
اس روایت کو ترمذی نے اور بیہقی نے دعوات کبیر میں نقل کیا۔ نیزترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح: ہواللہ الذی لا الہ الا ہو۔ یہ جملہ مستانفہ ہے یعنی یہ علیحدہ جملہ ہے اور ان ننانوے ناموں کا بیان ہے جو آگے ذکر کئے گئے ہیں۔
اس کلمہ کے کئی مراتب ہیں اول یہ کہ جب منافق اس کلمہ کو پڑھتا ہے اور اس کی تصدیق سے کالی ہوتا ہے یعنی وہ قلبی تصدیق اور اعتقا دکے بغیر محض اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے اس کلمہ کو زبان سے ادا کرتا ہے تو یہ کلمہ اس کی دنیا کے لئے تو نافع بن جاتا ہے بایں طور کہ اس کی وجہ سے اس کی جان، اس کا مال اور اس کے اہل وعیال مسلمانوں کے ہاتھوں محفوظ ہوجاتے ہیں لیکن آخرت کے اعتبار سے یہ کلمہ اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا ۔
دوم یہ کہ اس کلمہ کو زبان سے پڑھنے کے ساتھ اعتقاد قلبی بھی ہو مگر تقلید محض کے طور پر اس درجہ صحیح ہونے میں مختلف اقوال ہیں۔ صحیح قول یہ ہے کہ یہ یہ درجہ صحیح ہے۔ سوم یہ کہ اس کلمہ کو پڑھنے کے ساتھ اعتقاد قلبی بھی ہو مگر ایسا اعتقاد قلبی جو اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر حاصل کیا گیا ہو۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ بھی درجہ معتبر ہے۔
چہارم یہ کہ زبان سے اس کلمہ کی ادائیگی کے ساتھ اعتقاد جازم بھی ہو۔ جوازراہ دلیل قطعی حاصل ہوا ہو متفقہ طور پر یہ درجہ مقبول ہے پنجم یہ کہ اس کلمہ کو ادا کرنے والا اس طرح کا ہو کہ وہ دل کی آنکھوں سے اس کلمہ کے معنی جانتا ہو۔ یعنی اسے کامل طور پر عرفان حق حاصل ہو اور یہی رتبہ عالی ہے یہ تفصیل اس صورت میں ہے جب کہ اس کلمہ کو زبان سے ادا کیا جائے دوسری شکل یہ ہے کہ اس کلمہ کو صرف دل میں کہے یعنی زبان سے ادائیگی نہ ہو اس صورت میں یہ تفصیل ہے کہ اگر کسی عذر مثلا گونگے پن وغیرہ کی بنا پر اس کلمہ کو زبان سے ادا کرنے سے قاصر ہے تو یہ کلمہ دنیا وآخرت دونوں کے لئے نافع ہے یعنی وہ دنیا وآخرت دونوں کے اعتبار سے نجات یافتہ ہوگا اور اگر کسی عذر کے بغیر بھی زبان سے ادا نہ کرے تو پھر آخرت میں اس سے کوئی فائدہ نہٰں ہوگا۔ نووی نے اس بات پر اہل سنت کا اجماع نقل کیا ہے۔
" اللہ "
ٍ باری تعالی کا اسم ذات ہے اس کے معنی ہیں وہ ذات عبادت کے لائق ہے۔ اکثر علماء کہتے ہیں کہ اسماء باری تعالیٰ میں یہ نام سب سے بڑا ہے نیز کہا گیا ہے کہ عوام کو چاہئے کہ وہ اس نام کو اپنی زبان پر جاری کیں اور خشیت وتعظیم کے طور پر اس نام کے ساتھ ذکر کریں خواص کو چاہئے کہ وہ اس نام کے معنی میں غور وفکر کرین اور یہ جانیں کہ اس نام کا اطلاق صرف اسی ذات پر ہو سکتا ہے جو صفات الوہیت کی جامع ہے اور خواص الخوص کو چاہئے کہ وہ اپنا دل اللہ میں مستغرق رکھیں اور اس ذات کے علاوہ اور کسی بھی طرف التفات نہ کریں اور صرف اسی سے ڈریں کیونکہ وہی حق اور ثابت ہے اس کے علاوہ ہر چیز فانی اور باطل ہے جیسا کہ بخاری میں منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ شاعروں کے کلام میں سب سے صحیح کلام شاعر لبید کا یہ مصرعہ ہے کہ ۔ الا کل شئی ماخلاا للہ باطل۔ یا دروکھو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہرچیز باطل ہے ۔
خاصیت: جو شخص اس اسم ذات (اللہ) کو ہزار بار پڑھے وہ صاحب یقین ہو اور جو شخص اس کو نماز کے بعد وافر پڑھے اس کا بابط کشادہ ہو اور وہ صاحب کشف ہو۔
1" الرحمن ،
.2 الرحیم ۔ بخشنے والا "
ان دونوں ناموں سے بندہ کا نصیب یہ ہے (یعنی صفات باری تعالیٰ کو اپنانے کے سلسلہ میں ان اسماء کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف کامل توجہ ہو، اسی ذات پر توکل وبھروسہ کیا جائے اپنا باطن اس کے ذکر میں مشغول رکھا جائے غیر اللہ بے پرواہی برتی جائے بندگان خدا پر رحم کیا جائے چنانچہ مظلوم کی حمایت ومدد کی جائے اور ظالم کو بطریق نیک طلم سے باز رکھا جائے اللہ کی عبادت اور اس کے ذکر سے غفلت برتنے والوں کو خبردار کیا جائے گنہ گار کی طرف رحمت کی نظر کی جاے نہ کہ اسے نظر حقارت سے دیکھا جائے اپنی طاقت کے بقدر شرع امور کے استیصال میں کوشش صرف کی جائے اور اپنی وسعت وہمت کے مطابق محتاجوں اور ضرورت مندوں کی حاجتوں کو پورا کرنے کی سعی کی جائے۔


Last edited by shazia_rafiqi on Wed Jul 21, 2010 12:57 am; edited 1 time in total
Back to top Go down
shazia_rafiqi
Senior Member
Senior Member
avatar

Posts : 272
Points - امتياز : 599
Thanked - ووټ : 11
Join date : 2010-01-24

PostSubject: Re: 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)   Wed Jul 21, 2010 12:48 am

خاصیت: جو شخص ہر نماز کے بعد سوبار الرحمن الرحیم کہے حق تعالیٰ اس کے دل سے غفلت ، نسیان اور قساوت دور کرے گا اور تمام مخلوق اس پر مہربان ومشفق ہوگی۔
3" الملک" حقیقی بادشاہ۔ یعنی وہ زمین وآسمان اور تمام عالم کا حقیقی بادشاہ ہے دونوں جہاں اسی کے تصرف اور قبضہ میں ہیں وہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج :
لہٰذا جب بندہ نے اس کی یہ حیثیت وصفت جان لی تو اس پر رلازم ہے کہ اس کی بارگاہ کا بندہ وغلام اور اسی کے در کا گدا بنے اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری کے ذریعہ اسی کے آستانہ عزت وجاہ کی طلب کرے۔ نیز بندہ پر لازم ہے کہ اس کی بارگاہ قدرت وتصرف سے تعلق پیدا کرے اس کے علاوہ ہر ایک سے کلیۃ بے نیازی اختیار کرے ۔ نہ کسی سے اپنی ضرورت وحاجت بیان کرے اور نہ کسی سے ڈرے نہ امید رکھے اپنے دل، اپنے نفس اور اپنے قالب کی دنیا کا حاکم بنے اور اپنے اعضاء اور اپنے قوی کو قابو میں رکھ کر اس کی اطاعت وعبادت اور شریعت کی فرمانبرداری میں لگا دے تاکہ صحیح معنی میں اپنے وجود کی دنیا کاحاکم کہلائے ۔
خاصیت: جو شخص اس اسم کو القدوس کے ساتھ(یعنی ملک القدوس) پابندی کے ساتھ پڑھتا رہے تو اگر وہ صاحب ملک اور سلطنت ہوگا تو اس کے ملک اور سلطنت کو اللہ تعالیٰ قائم ودائم رکھے گا اور جو صاحب سلطنت نہ وہگا تو اس کی برکت سے اس کا اپنا نفس مطیع وفرمانبردار رہے گا اور جو شخص اسے عزت وجاہ کے لئے پڑھے تو اس کا مقصود حاصل ہوگا اور اس بارہ میں یہ عمل مجرب ہے ۔
حضرت شاہ عبدالرحمن نے اس کی خاصیت یہ لکھی ہے کہ جو شخص اس اسم " الملک" کو روزانہ نوے بار پرھے تو نہ صرف یہ کہ روشن اور تونگر ہوگا بلکہ حکام وسلاطین اس کے لئے مسخر ہوجائیں گے اور عزت واحترام اور جاہ کی زیادتی کے حصول کے لے مجرب ہے۔
4" القدوس" نہایت پاک۔
قشیری رحمہ اللہ نے کہا کہ جس شخص نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نہایت پاک ہے تو اب اس کو چاہئے کہ اس بات کی آرزو کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کو ہر حالت میں عیوب اور آفات سے دور اور گناہوں کی نجاست سے پاک رکھے۔
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک کو ہر روز زوال آفتاب کے وقت پڑھے اس کا دل صاف ہو اور جو شخص نماز جمعہ کے بعد اس اسم واسم السبوح کے ساتھ (یعنی القدس السبوح) روٹی کے ٹکڑے پر لکھ کر کھائے تو فرشتہ صفت ہو اور بھگدڑ کے وقت دشمنوں سے حفاظت کے وقت اس اسم کو جتنا پڑھا جاسکے پڑھاجائے اور مسافر اس کو برابر پڑھتا رہے اور کبھی ماندہ اور عاجز نہ ہوا ور اگر اس کو تین سو انیس بار شیرنی پر پڑھ کر دشمن کو کھلادے تو وہ مہربان ہو۔
5" السلام" ۔ بے عیب وسلامت۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ بتایا ہے کہ مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ وسلامت رہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ شفقت کا معاملہ کرے جب وہ کسی ایسے مسلمان کو دیکھے جو اس سے عمر میں بڑا ہو تو یہ کہے کہ یہ مجھ سے بہتر ہے کیونکہ اس نے میری نسبت زیادہ عبادت واطاعت کی ہے اور ایمان ومعرفت میں مجھ پر سبقت رکھتا ہے اور اگر کسی ایسے مسلمان کو دیکھے جو عمر میں اس سے چھوٹا ہو تو بھی یہی کہے یہ مجھ سے بہتر ہے کیونکہ اس نے میری بنسبت گناہ کم کئے ہیں۔ نیز اگر کسی مسلمان بھائی سے کوئی قصور ہوجائے اور وہ معذرت کرے تو اس کی معذرت قبول کر کے اس کا قصور معاف کردیا جائے۔
خاصیت: اگر کوئی شخص اس اسم مبارک کو کسی بیمار پر ایک سو گیارہ مرتبہ پڑھے تو انشاء اللہ حق تعالیٰ اسے صحت وشفا عطا فرمائے گا اور اگر کوئی شخص اس کو برابر پڑھتا رہے تو خوف سے نڈر ہوگا۔
6" المومن" ۔ امن دینے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ مخلوق خدا کو نہ صرف اپنے شر اور اپنی برائی سے بلکہ دوسروں کی برائی اور شر سے بھی امن میں رکھے۔
خاصیت: جو شخص اس اسم کو بہت پڑھتا رہے یا اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھے تو حق تعالیٰ اس کو شیطان کی شر سے نڈر رکھے گا اور کوئی شخص اس پر حاوی نہیں ہوگا نیز اس کا ظاہر اور اس کا باطن حق تعالیٰ کی امان میں رہے گا اور جو شخص اس کو بہت زیادہ پڑھتا رہے گا مخلوق خدا اس کی مطیع اور فرمانبردار ہوگی۔
7" المہیمن" ۔ہر چیز کا اچھی طرح محافظ نگہبان۔
اس اسم سے عارف کا نصیب یہ ہے کہ بری عادتوں، برے عقیدوں اور بری چیزوں مثلاً حسد اور کینہ وغیرہما سے اپنے دل کی نگہبانی کرے اپنے احوال درست کرے اور اپنے قوی اور اپنے اعضا کو ان چیزوں میں مشغول ہونے سے محفوظ رکھے جو دل کو اللہ کی طرف سے غفلت میں ڈالنے والی ہوں۔
خاصیت: جو شخص غسل کے بعد اس اسم کو ایک سو پندرہ مرتبہ پڑھے وہ غیب اور باطن کی باتوں پر مطلع ہو اور جو شخص اس کو برابر پڑھتا رہے وہ تمام آفات سے پناہ پائے اور جنتیوں کی جماعت میں شامل ہو۔
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 810 مکررات 0
8 " العزیز" ۔غالب وبے مثل کہ کوئی اس پر غالب نہیں۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اپنے نفس، اپنی خواہشات اور شیطان پر غالب رہے علم وعمل اور عرفات میں بے مثل بنے اور مخلوق خدا کے آگے ہاتھ نہ پھیلا کر اپنی ذات کو عزت بخشے اور غیراللہ کے آگے دست سوال دراز کرکے اپنے آپ کو ذـلیل نہ کرے۔
ابوالعباس مریسی کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! عزت تو میں نے مخلوق خدا سے بلند ہمتی اختیار کرنے (یعنی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے ہی میں دیکھی ہے)۔
بعض علماء فرماتے ہیں کہ اللہ کو عزیز وغالب وبے مثل تو اسی نے جانا جس نے اس کے احکام اور اس کی شریعت کو عزیز یعنی (اپنے اوپر غالب ) کیا اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری میں بے مثل بنا اور جس نے ان چیزوں میں سہل پسندی اور بے اعتنائی کا رویہ اختیار کیا اس نے خدا کی عزت نہیں پہچانی یعنی اسے عزیز نہیں مانا ۔ اور ارشاد ربانی ہے ۔ اللہ العزۃ ولرسولہ اللمومنین ولکن المنافقین لایعلمون۔ اور اللہ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے اور مومنین کے لئے عزت ہے اور لیکن منافق اسے نہیں جانتے۔
خاصیت: جو شخص اس اسم کو فجر کی نماز کے بعد اکتالیس بار پڑھے وہ دنیا اور آخرت میں کسی کا محتاج نہ ہو اور بعد خواری کے عزیز ہو اس کے علاوہ بھی اس اسم مبارک کی بڑی عجیب وغریب خاصیتیں مذکور ہیں۔
9" الجبار" ۔ بگڑے کاموں کو درست کرنے والا۔ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں ، بندوں کو اس چیز کی طرف لانے والا جس کا ارادہ کرتا ہے۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ فضائل وکمال حاصل کرکے اپنے نفس کی خربیوں کو درست کرے اور تقویٰ وپرہیزگاری اور طاعت پر مداومت اختیار کر کے اپنے نفس پر غالب ہو اور اس طرح درجہ کامل کو پہنچے ۔
قشیری کہتے ہیں کہ بعض کتابوں میں یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندے! کسی چیز کا تو بھی ارادہ کرتا ہے اور میں بھی ارادہ کرتا ہوں (یعنی اس چیز کے بارے میں تیری خواہش کچھ ہوتی ہے اور میری مشیت کچھ اور ) ہوتا وہی ہے جو میں ارادہ کرتا ہوں لہٰذا تو اگر اس پر راضی ہوجائے جس کا میں ارادہ کرتا ہوں (یعنی اس چیز کے بارہ میں میری طرف جو فیصلہ صادر ہوجائے تو اپنی کوہش کے علی الرغم اس کو بلاچوں وچرا مان لے اور اس پر راضی ہوجائے ) تو تو جو ارادہ کرتا ہے میں اس پر تجھ سے کفایت کروں گا۔ (یعنی اس کا نعم البدل عطا کروں گا) اور تو اگر اس پر راضی نہ ہو ہوا۔ جس کا میں ارادہ کرتا ہوں تو پھر میں اس میں تجھ سے کفایت نہی کروں گا جس کا تو ارادہ کرتا ہے (یعنی تجھے نعم البدل عطا نہیں کروں گا۔ اور پھر ہوگا وہی جو میں ارادہ کرتا ہوں اور تو محروم کا محروم رہ جائے گا)۔
خاصیت: جو شخص مسبحات عشرکے بعد اس اسم کو اکیس بارپڑھے وہ ظالموں کی شر سے امن میں رہے گا جو شخص اس اسم کو پڑھنے پر ہمیشگی اختیار کرے گا وہ غیب اور مخلوق کی بدگوئی سے نڈر اور امان میں رہے گا اور اہل دولت وسلطنت میں سے ہوگا اور اگر کوئی شخص اس اسم کو انگوٹھی پر نقش کر اکے پہنے تو لوگوں کے دل میں اس کی ہیبت اور شوکت بیٹھ جائے گی۔
10" المتکبر" ۔ نہایت بزرگ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ جب اسے حق تعالیٰ کی یہ بزرگی معلوم ہوئی تو اب اسے چاہئے کہ وہ خواہشات نفسانی کی طرف میلان ور لذات شہوانی کی طرف رغبت سے تکبر یعنی پرہیز کرے کیونکہ ان چیزوں کی طرف رغبت کرے گا تو جانور کا شریک ہوگا ۔ بلکہ ہر اس چیز سے تکبر کرنا چاہئے جو باطن کو حق سے باز رکھے اور حق تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لعاوہ ہر چیز کو حقیر جاننا اور تواضع وتذلل کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے اور اپنی ذات سے تکبر کے تمام دعوؤں کو زائل کرنا چاہئے تاکہ نفس صاف ہو اور اس میں خدا کی محبت جاگزیں ہو اور اس طرح نہ نفس کا اختیار باقی رہے اور نہ غیر اللہ کے ساتھ قرار ۔
خاصیت: جو شخص اپنی بیوی سے مباشرت کے وقت دخول سے پہلے اس مابرک اسم کو دس مرتبہ پڑھے تو انشاء اللہ حق تعالیٰ اسے پرہیز گار فرزند خلف عطا فرمائے گا اور جو شخص اپنے ہر کام کی ابتداء میں یہ اسم مبارک بہت پڑھے تو خدا نے چاہا وہ اپنی مراد کو پہنچے گا۔
11" الخالق" ۔ مشیت وحکمت کے موافق پیدا ہونے والی چیز کا اندازہ کرنے ولا۔
خاصیت: جو شخص اس اسم مبارک کو برابر پڑھتا رہتا ہے حق تعالیٰ اس کے لئے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے تاکہ وہ اس کی طرف سے قیامت کے دن تک عبادت کرتا رہے نیز حق تعالیٰ اس اسم مبارک کی برکت سے اس شخص کا دل اور منہ، روشن ونورانی کردیتاہے! حضرت شاہ عبدالرحمن نے لکھا ہے کہ جو شخص رات میں یہ اسم بہت زیادہ پڑھے گا اس کا دل اور منہ روشن ومنور ہوگا اور وہ تمام کواموں پر حاوی رہے گا۔
12" الباری" ۔ پیدا کرنے ولا۔
خاصیت: جو شخص اس اسم کو ہفتہ میں سو بار پڑھ لیا کرے حق تعالیٰ اس کو قبر میں نہیں چھوڑے گا بلکہ ریاض قدس میں لے جائے گا اور جو حکیم ومعالج اس اسم کو مستقل طور پر پڑھتا رہے وہ جو بھی علاج کرے گا کامیاب رہے گا۔
13" المصور" ۔ صورت بنانے والا۔
مذکورہ بالا ان تینوں ناموں سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ جب کوئی چیز دیکھے اور جب بھی کسی چیز کا تصور کرے تو خدا کی قدرتوں اور عجائبات میں غور وفکر کرے جو اس چیز میں موجود ہیں۔
خاصیت: اگر کئی عورت بانجھ ہو اور اولادکی دولت سے محرورم ہو تو اسے چاہئے کہ وہ وسات دن روزے رکھے اور ہر روز افطار کے وقت اکیس بار المصور پڑھ کر پانی پر دم کرے اور اسے پی لے انشاء اللہ حق تعالیٰ اسے فرزندنیک عطا فرمائے گا جو شخص کسی دشوار اور مشکل کام کے
وقت اس اسم کو بہت پڑھے وہ کام اسان ہوجائے گا۔
14" الغفار" ۔ بندوں کے گناہوں کو بخشنے ولا اور ان کے عیوب کو ڈھانکنے والا "
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لے کہ گناہون کو خدا کے علاوہ اور کوئی نہیں بخشتا نیز اسے چاہئے کہ وہ لوگوں کے عیوب کو چھپائے کسی سے کوئی قصوروخطا ہوجائے تو اس سے درگزر کرے اور اپنے اوپر ہمہ اوقات خصوصا سحر کے وقت استغفار کو لازم کرے جو شخص جمعہ کے نماز کے بعد سو بار یہ کہتا ہے۔ یا غفار اغفر لی ذنوبی ۔ اے بخشنے والے! میرے گناہ بخش دے۔ تو حق تعالیٰ اسے ان لوگوں میں سے قرار دیتا ہے جن کی بخشش ہوچکی ہوتی ہے۔
15" القہار" ۔ غالب کہ اس کی قدرت کے سامنے سب عاجز ومغلوب ہیں۔
اس اسم مبارک سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنے بڑے دشمنوں پر غالب ہو کر انہیں اپنے سامنے عاجز اور اپنا مغلوب بنادے اور وہ بڑے دشمن نفس اور شیطان ہیں۔
خاصیت: جو کوئی اس اسم کو بہت پڑھتا ہے حق تعالیٰ اس کے دل سے دنیا کی محبت دور کر دیتا ہے اور اس کا خاتمہ بخیر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے دل میں شوق ومحبت پیدا کرتا ہے اور جو شخص اس اسم کو اپنی کسی بھی مہم کے لئے سو بار پڑھے تو اس کی مہم آسان ہوجائے گی اور جو کوئی اس کو پڑھنے میں ہمیشگی اختیار کرے گا اس کے دل سے دنیا کی محبت جاتی رہے گی اور اگر کوئی شخص نت وفرض نمازوں کے درمیان اس اسم کو سوباریہ نیت مقہوری پڑھے تو بڑے سے بڑا دشمن مقہور ومغلوب ہو۔
16" الوہاب" ۔ بغیر بدلہ کے بہت دینے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنا مال بغیر کسی غرض اور بلاکسی عوض کے لالچ کے خرچ کرے۔
خاصیت: جو کوئی فقروفاقہ کی تکلیف ومصیبت جھیل رہا ہو تو اسے چاہئے کہ اس اسم پاک کو پڑھنے پر ہمیشگی اختیار کرے حق تعالیٰ اسے اس مصیبت سے اس طرح نجات دے گا کہ وہ حیران رہ جائے گا اور جو شخص اس کو لکھ کر اپنے
Back to top Go down
shazia_rafiqi
Senior Member
Senior Member
avatar

Posts : 272
Points - امتياز : 599
Thanked - ووټ : 11
Join date : 2010-01-24

PostSubject: Re: 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)   Wed Jul 21, 2010 12:49 am

پاس رکھے وہ اس کا ایسا ہی اثر پائے گا اور جو شخص نماز چاشت کے بعد سجدہ کی کوئی آیت پڑھے۔ اور پھر سجدہ میں سر رکھ کر سات بار یہ اسم پاک پڑھے تو مخلوق سے بے نیاز وبے پرواہ ہوجائے گا اور اگر کسی کو اپنی کوئی حاجت پوری کرانی ہو تو وہ آدھی رات کو اپنے مکان یا مسجد کے صحن میں تین بار سجدہ کرے اور پھر ہاتھ اٹھا کر اسم کو سو بار پڑھے انشاء اللہ اس کی حاجت ضرور پوری ہوگی۔
مولانا شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ فراخی رزق کے لئے چاشت کے وقت چار رکعت نماز پڑھی جائے نماز سے فراغت کے بعد سجدہ میں جا کر ایک سو چار مرتبہ یا وہاب پڑھاجائے اور اگر اتنا وقت نہ ہو تو پچاس مرتبہ پڑھ لیا جائے انشاء اللہ رزق میں وسعت وفراخی ہوگی۔
17" الرزاق' '۔ رزق پید اکرنے والا اور مخلوقات کو رزق پہنچانے والا۔ رزق اس چیز کو کہتے ہیں کہ جس سے فائدہ اٹھایا جائے پھر اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں ظاہری اور باطنی باطنی وہ ہے جس سے نفس کو اور دل کو فائدہ پہنچے جیسے علوم معارف وغیرہ اور ظاہری وہ ہے جس سے بدن کو فائدہ پہنچے مثلا کھانے پینے کی چیزیں اور اسباب یعنی کپڑا وغیرہ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اس بات پر کامل یقین واعتقاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی بھی زات رزق دینے کے قابل نہیں ہے لہٰذا وہ رزق کی توقع صرف اللہ تعالیٰ سے ہی رکھے اور اپنے تمام امور اسی کی طرف سونپے نیز اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے لوگوں کو جسمانی اور روحانی رزق پہنچاتارہے یعنی جو محتاج وضرورت مند ہوں ان پر اپنا مال خرچ کرے۔ جو کہ کم علم اور گمراہ ہوں انہیں تعلیم دے اور ان کی ہدایت کرے اور ہر مسلمان کے لئے دعائے خیر کرتا رہے وغیرہ وغیرہ کسی عارف سے پوچھا گیا کہ آپ کے کھانے پینے کا انتظام کیسے ہوتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جب سے مجھے اپنے خالق کا عرفان حاصل ہوا میں نے کبھی بھی اپنے رزق کا فکر نہیں کیا اسی طرح ایک عارف سے پوچھا گیا کہ قوت غذا کیا ہے؟ انہوں نے کہا حی الذی لایموت (وہ پاک ذات یعنی اللہ ایسا زندہ ہے جس کے لئے موت نہیں ہے ) کا ذکر
خاصیت: جو شخص صبح صادق کے طلوع کے بعد اور نماز فجر سے پہلے اپنے گھر کے چاروں کونوں میں اس اسم پاک کو دس دس مرتبہ پڑھے اس طرح کہ داہنی طرف سے پڑھنا شروع کرے اور منہ قبلہ کی طرف سے نہ پھیرے تو اس گھر میں رنج ومفلسی کا گزر نہیں ہوگا۔
18" الفتاح" حکم کرنے والا۔ اور بعضوں نے کہا ہے رزق رحمت کے دروازے کھولنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان صلح وصفائی اور انصاف کے لئے فیصلہ کرنے کی سعی وکوشش کرتا رہے اور مظلوموں کی مدد کرے نیز لوگوں کی دنیاوی اخروی حاجتوں کو پورا کرنے کا ارادہ رکھے ۔
قشیری نے فرمایا کہ جس شخص نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ رزق ورحمت کے دروازے کھولنے والا۔ اسباب میسر کرنے والا اور تمام چیزوں کو درست کرنے والا ہے تو اب وہ اللہ کے علاوہ کسی اور میں اپنا دل نہیں لگائے گا۔
خاصیت: جو شخص نماز فجر کے بعد اپنے سینہ پر دونوں ہاتھ رکھ کر ستر بار اس اسم کو پڑھے تو اس کے دل کا میل جاتا رہے گا اور اسے قلب وباطن کی بہت زیاد صفائی حاصل ہوگی۔
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 811 مکررات 0
19 " العلیم" ظاہر وباطن کا جاننے والا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جس شخص نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ مریا حال خوب جانتا ہے تو اب اس کے لئے ضروری ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے کسی مصیبت وبلا میں مبتلا کرے تو وہ اس پر صبر کرے اور جو کچھ عطا کرے اس کا شکر ادا کرے اور اس سے اپنی خطاؤ ںکی بخشش ومعافی کا خواستگار ہو۔
بعض کتابوں میں منقول ہے کہ اللہ تعالی (بندوں سے) فرماتا ہے اگر تم یہ نہیں جانتے کہ ہر حالت میں تم پر میری نظر رہتی ہے اور میں تمہیں دیکھتا ہوں تو پھر تمہارے ایمان میں کمی ہے اور اگر تم یہ جانتے ہو کہ میں تمہیں ہر وقت دیکھتا رہتا ہوں تو پھر کیوں تم مجھے دیکھنے والوں میں سب سے حقیر سمجھتے ہو؟ یعنی (دوسروں سے تو تم ڈرتے ہو اور شرم کرتے ہو کہ کہیں وہ تمہیں برائی اور تمہارے کسی جرم کو دیکھ نہ لیں لیکن کسی بھی برائی اور جرم کے وقت مجھ سے نہ ڈرتے ہو اور شرم نہ کرتے ہو جب کہ تمہاری ایک ایک حرکت میری نظر رہتی ہے جس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ (نعوذباللہ) میرے مقابلہ پر تم دنیا والوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہو۔
خاصیت: جو شخص اس اسم کو بہت زیادہ پڑھتا ہے حق تعالیٰ اسے اپنی معرفت بہت زیادہ عطا کرتا ہے اور جو شخص نماز کے بعد یا عالم الغیب سو مرتبہ کہے حق تعالیٰ اسے صاحب کشف بنائے گا اور اگر کوئی چاہے کہ اسے کسی پوشیدہ چیز کا علم ہو تو اسے چاہئے کہ وہ عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں یہ سو مرتبہ کہہ کر سوئے انشاء اللہ اس پر اس چیز کی حقیقت آشکارا ہوجائے گی۔
20" القابض" بندوں کی روزی یا دل تنگ کرنے والا اور اس کی روح قبض کرنے والا۔
خاصیت: اگر کوئی شخص اس نام پاک کو چالیس دنوں تک روزانہ (روٹی وغیرہ) چارنوالوں پر لکھ کر کھایا کرے تو انشاء اللہ وہبھوک اور قبر کے عذاب سے امن میں رہے گا۔
21" الباسط" بندوں کی روزی میں وسعت اور فراخی پیدا کرنے ولاا یا ان کا دل کشادہ کرنے والا۔
ان دونوں ناموں (یعنی القابض اور الباسط) سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ نہ تو کسی بلاء ومصیبت کے وقت ناامید ہو اور نہ اس کی بخشش عطاء کے وقت بے فکری اختیار کرے اور تنگی کو اس کے عدل کا نتیجہ جانے اور اس پر صبر کرے اور فراخی ووسعت کو اس کے فضل کا ثمرہ سمجھے اور اس پر شکر گزار ہو۔ ! قشیری کہتے ہیں کہ یہ دونوں کیفیت یعنی دنل کا تنگ اور کشادہ ہونا۔ عافروں کے دل پر طاری ہوتی ہے کہ جب خوف خدا غالب ہوتا ہے تو ان کے دل تنگ ہوتے ہیں اور جب رحمت کی امید غالب ہوتی ہے تو ان کے دل کشادہ ہوتے ہیں! چنانچہ حضرت جنید بغدادی کے بارہ میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا خوف میرے دل کو تنگ کردیتا ہے امید میرے دل کو کشادہ کردیتی ہے حق مجھے جمع کرتا ہے (یعنی حق تعالیٰ کی یاد سے مجھے خاطر جمعی حاصل ہوتی ہے) اور مخلوق مجھے منتشر کرتی ہے (یعنی مخلوق کی صحبت سے میں پراگندہ خاطر اور متواحش ہوتا ہوں) اور بندہ کی شان کا تقاضہ یہ ہے کہ تنگی اور پریشانی کی حالت میں بے قراری سے پرہیز کرے اور وسعت فراخی کے وقت بے جا خوشی اور بے ادبی سے اجتناب کرے کہ ان چیزوں سے بڑے بڑے لوگ ڈرتے رہے ہیں۔
خاصیت: جو شخص سحر کے وقت ہاتھ اٹھا کر اس اسم پاک کو دس بار پڑھے اور پھر اپنے ہاتھوں کو منہ پر پھیرے تو اس کبھی یہ ضرورت محسوس نہٰں ہوگی کہ وہ کسی سے اپنی کوئی حاجت پوری کرنے کی درخواست کرے۔
22" الخافض" کافروں کو ذلیل وخوار کرکے یا ان کو اپنی درگارہ سے دور رکھ کر پشت کرنے والا۔
خاصیت: جو شخص تین روزے رکھے اور چوتھے روزہ ایک نشست میں اس اسم پاک کو ستر ہزار بار پڑھے وہ دشمنوں پر فتح پائے گا۔
نصیب یہ ہے کہ وہ اپنی کسی بھی حالت پر اعتماد نہ کرے اور نہ اپنے علوم اعمال میں سے کسی چیز پر بھروسہ کرے اور اس چیز کو پست ومغلوب کرے جس کو اللہ نے پست کرنے کا حکم دیا ہے مثلاً نفس وخواہش ، اس چیز کو بلند کرے جس کو اللہ نے بلند کرنے کا حکم دیا ہے جیسے دل اور روح ۔
منقول ہے کہ ایک شخص کو لوگوں نے ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھا تو اس سے پوچھا کہ تم اس مرتبہ پر کیونکہ پہنچے؟ اس نے کہا کہ میں نے اپنی ہوا یعنی اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے فضا کی ہوا کو میرے لئے مسخر کردیا۔
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک کو آدھی رات کے وقت یا دوپہر میں سو مرتبہ پڑھے حق تعالیٰ اسے مخلوق میں برگزیدہ اور تونگر اور بے نیاز بنائے گا۔
24" المعز" ۔ عزت دینے والا۔
خاصیت: وج شخس اس اسم پاک کو دو شنبہ کی شب میں یا جمعہ کی شب میں ایک سو چالیس مرتبہ پڑھے گا مخلوق کی نظر میں اس کی ہیبت وشکوت پیدا ہوگی اور وہ حق تعالیٰ کے علاوہ کسی کے خوف میں مبتلا نہیں ہوگا۔
25" المذل" ذلت دینے ولا۔
ان دونوں ناموں (المعز اور المذل) سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو عزیز رکھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے علم ومعرفت کی وجہ سے عزیز رکھا ہے اور ان لوگوں کو ذلیل وخوار سمجھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے کفر ضلالت کے سبب سے ذلیل وخوار قرار دیا ہے۔
خاصیت: اگر کوئی شخص کسی ظالم وحاسد سے ڈرتا ہو اسے چاہئے کہ وہ اس اسم پاک کو پچھتر بار پڑھے اس کے بعد سجدہ کرے اور بارگاہ حق میں یوں عرض کرے ۔ اے اللہ! فلاں ظالم وحاسد کی شر سے مجھے امن دے ۔ حق تعالیٰ اسے امان دے گا۔
26" السمیع" سننے والا ۔
27 " البصیر" دیکھنے والا۔
ان ناموں سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ خلاف شرع چیزوں کے کہنے سننے اور دیکھنے سے پرہیز کرے اور اللہ کو اپنے اقوال وافعال پر حاضر ناظر جانے ۔
امام غزالی فرماتے ہیں کہ جس نے غیر اللہ سے اس چیز کو چھپایا جس کو وہ اللہ سے نہیں چھپاتا اس نے گویا اللہ کی نظر کو حقیر جانا لہیذا جس شخص نے یہ جانتے ہوئے کوئی گناہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھتا ہے تو اس نے بڑی جرات کی اور کیا ہی بڑی جرات کی؟ اور جس نے اس گمان کے ساتھ کوئی گناہ کیا کہ اسے اللہ نہیں دیکھتا ہے تو پھر اس نے بڑا کفر کیا اور کیا ہی بڑا کفر کیا؟ اس لئے بطور تعلیق بالمحال کہا جاتا ہے کہ اگر تم اپنے خدا کا کوئی جرم کر وتو ایسی جگہ کرو جہان وہ تمہیں نہ دیکھے مطلب یہ ہے کہ ایسی کون سی جگہ ہے کہ خدا کی نظر سے پوشیدہ ہو، اور جب ایسی کوئی جگہ بھی ممکن نہیں جہاں خدا گناہ کرتے نہ دیکھے تو پھر گناہ نہ کرو۔
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک السمیع کو پنجشنبہ کے دن نماز چاشت کے بعد پانچ سو بار ایک قول کے مطابق ہر روز نماز چاشت کے بعد ایک سوبار پڑھے اور پڑھنے کے درمیان کوئی کلام نہ کرے تو اس کے بعد جو دعا مانگے قبول ہوگی۔ اور اگر کوئی شخص فجر کی سنت وفرض نماز کے درمیان اسم پاک البصیر کو کامل اور صحیح اعتقاد کے ساتھ ایک سو ایک بار پڑھا کرے تو انشاء اللہ وہ حق تعالیٰ کی نظر عنایت کے ساتھ مختص ہوگا۔
28" الحکم" ۔ حکم کرنے والا کہ اس کے حک کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ جب اسن نے یہ جان لیا کہ حق تعالیٰ ایسا حاکم ہے کہ اس کے حکم اور اس کے فیصلہ کو کوئی ٹال نہیں سکتا تو اب اسے چاہئے کہ وہ اس کا ہر حکم مانے اور اس کی مشیت وقجا کا تابعدار ہو، لہٰذا جوبندہ اس کی مشیت اور اس کی قضا وقدر پر قصداً راضی نہ ہوگا تو حق تعالی اس پر اپنی مشیت اور اپنا فیصلہ زبردستی جاری کرے وار جو شخص برضا ورغبت اور دل کے ساتھ بخوشی اسے مان لے گا۔ حق تعالیٰ اسے اپنی رحمت اور اپنے کرم سے نوازے گا وہ خوشی اور اطمینان کی زندگی گزارے گا اور وہ غیراللہ کے سامنے اپنی فریاد لے کر جانے کا محتاج نہیں ہوگا۔
خاسیت : جو شخص اس اسم مبارک کو شب جمعہ میں اور ایک قول کے مطابق ادھی رات کے وقت اتنا پڑھے کہ بے ہوش ہوجائے تو حق تعالیٰ اس کے باطن کو معدن اسرار بنا دے گا۔
29" العدل" انصاف کرنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ یہ جاننے کے بعد کہ اللہ انصاف کرنے والا ہے بندہ کو چاہئے کہ اس کے احکام اور اس کے فیصلوں سے اپنے اندر گھبراہٹ اور تنگی پیدا نہ کرے بلکہ یہ یقین رکھے کہ اس نے میرے بارہ میں جو فیصلہ فرمایا ہے وہ عین انصاف ہے لہٰذ اس پر توکل اور اعتماد کے ذریعہ راحت واطمینان پیدا کرنے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ اسے دے اس کو اس جگہ خرچ کرنے سے دریغ نہ کرے جہاںخرچ کرنا ازراہ شروع وعقل مناسب ہے اور اس کے عدل سے ڈرے اس کے فضل وکرم کا امیدوار رہے اور تمام امور میں افراط وتفریط سے پرہیز کرتے ہوئے درمیانی راہ اختیار کرے۔
خاصیت: یہ جو شخص اس اسم پاک کو شب جمعہ میں روٹی کے بیس لقموں پر لکھ کر کھائے حق تعالیٰ تمام مخلوق کو اس کے لئے مسخر کردے گا۔
30" اللطیف" اپنے بندوں پر نرمی کرنے والا اور باریک بیں کہ اس کے لئے دو رونزدیک یکساں ہیں۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ امور دین ودنیا میں غور وفکر رکے اور نرمی کے ساتھ لوگوں کو راہ حق کی طرف بلائے۔
خاسیت: جس شخص کو اسباب معیشت مہیا نہ ہوں اور فقروفاقہ میں مبتلا رہتاہو، یا غربت میں کوئی غمخوار نہ ہو یا بیمارا ہو اور کوئی اس کی تیمارداری نہ کرتا ہوں یا اس کے لڑکی ہو کہ اس کا رشتہ وغیرہ نہ آتا ہو تو اسے چاہئے کہ پہلے اچھی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھ کر اس اسم پاک کو اپنے مقصد کی نیت کے ساتھ سو بار پڑھے انشاء اللہ حق تعالیٰ اس کی مشکل کو آسان کرے گا اسی طرح لڑکیوں کا نصیب کھلنے کے لئے ، امراض سے صحت یابی کے لئے اور مہمات کی تکمیل کےئے کسی خالی جگہ میں اس اسم کی دعا کی شرائط کے ساتھ سولہ ہزار تین سو اکتالیس مرتبہ پڑھاجائے انشاء اللہ مراد حاصل ہوگی۔
31" الخبیر" دل کیباتوں اور تمام چیزوں کی خبر رکھنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ جب اس نے جان لیا کہ اللہ تعالیٰ میرے بھیدوں پر مطلع ہے اور میرے دل کی باتیں تک جانتا ہے تو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ بھی اس کو یاد رکھے اور اس کی یاد کے آگے اس کے ماسوا کو بھول جائے۔ ضلالت کے راستوں سے پرہیز کرے۔ اپنی ذات پر ریاکاری کے ترک اور تقویٰ کے اختیار کو لازم کرے باطن کی اصلاح میں مشغول رہے اس سے غفلت نہ برتے اور دین ودنیا کی بہترین کھلی باتوں کی خبررکھنے ولاا ہو۔
خاصیت: جو شخص نفس امارہ کے ہاتھوں گرفتار ہو وہ اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھتا رہے خدا نے چاہ تو اس سے نجات پائے گا۔
32" الحلیم" ۔ بردبار کہ مومن کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ ان کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ توبہ کر کے فلاح پائیں۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ بدطینت لوگوں کی ایذاء پر تحمل کرے ، زبردستوں کو سزا دینے پر تامل کرے اور غیض وغضب اور غصہ سے دور رہے اور حلم کے اس مرتبہ کمال کو پہنچنے کی کوشش کرے کہ اگر شخص اس کے ساتھ برائی کرے گا تو وہ اس کے ساتھ نیکی کرے ۔
خاصیت: اگر کوئی شخص اس اسم پاک کو کاغذ پر لکھ کر دھوئے اور اس کا پانی کھیتی ودرخت میں ڈالے نقصان سے محفوظ رہے گا، ان میں برکت ہوگی۔ اور ان سے پورا پورا ثمرہ حاصل ہوگا۔
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 812 مکررات 0
33 " العظیم" ذات پاک میں فہم وشعور کی رسائی سے بھی زیادہ بزرگ وبرتر۔ یعنی اپنی ذات وصفات کے اعتبار سے اس کی بزرگی و بڑائی اور عظمت اتنی زیادہ ہے کہ انسان کی عقل اور اس کی فہم وشعور اس کی عظمت وبڑائی کا ادراک بھی نہیں کرسکتا ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ عظمت الٰہی کے آگے کونین کو بھی حقیر جانے، دنیا کے لئے کسی کے آگے اپنا سر نہ جھکائے ۔ اپنے نفس کو حقیر جانے اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو کرنے کا حکم کیا ہے ان کو اختیار کرکے اور جن چیزوں سے بچنے کا حکم کیا ہے ان سے اجتناب کرے اور چیزیں خدا کو محبوب ہیں ان میں مشغول رہ کر اپنے نفس کو ذلیل کرے۔ تاکہ خدا کی رضا وخوشنودی حاصل ہو۔
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک کو پڑھنے پر مداومت وہمیشگی اختیار کرے وہ مخلوق خدا کی نظروں میں عزیز ومکرم ہوگا۔
34" الغفور" ۔ بہت بخشنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ رات ودن کے اکثر اوقات میں خصوصا سحر کے وقت استغفار کو اپنے اوپر لازم کرے اور اس شخص کو بخشش ومعافی دے جو اسے تکلیف وایذاء پہنچائے۔
خاصیت: جس شخص کو کوئی بیماری ہو مثلاً بخار اور درد سر وغیرہ یا کوئی رنج وغم اس پر غالب ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس اسم پاک کو کاغذ پر لکھے اور اس کے نقش کو روٹی پر جذب کر کے اسے کھالے حق تعالیٰ اسے شفا ونجات عطا فرمائے گا اور اگر کوئی شخص اس کو بہت پڑھتا رہے اس کے دل کی ظلمت جاتی رہے گی۔
ایک حدیث میں منقول ہے کہ جو شخص سجدہ کرے اور سجدہ میں یا رب اغفر لی اے میرے پروردگار! مجھے بخش دے۔ تین مرتبہ کہے حق تعالی اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دے گا۔ جس شخص کو درد سر کا عارضہ لاحق ہو یا کسی اور بیماری اور غم میں مبتلا ہو تو اسے چاہئے کہ یاغفور کے مقطعات تین مرتبہ لکھ کر کھالے انشاء اللہ شفا پائے گا۔
35" الشکور" قدردان، اور تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب دینے ولا۔ منقول ہے کہ کسی شکص کو جو مرچکا تھا خواب میں دیکھا گیا تو اس سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ حق تعالیٰ نے کیسا معاملہ ؟ اس شخص نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ سے حساب کی اتو میری نیکیوں کا پلڑا اٹھ گیا۔ اور گناہوں کا پلڑا غالب ہوگیا کہ اچانک نیکیوں کے پلڑے میں ایک تھیلی آکر پڑی جس سے وہ پلڑا جھک گیا۔ جب میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو مجھے بتایاگیا کہ یہ ایک مٹھی بھر مٹی ہے جو تونے اپنے ایک مسلمان بھائی کی قبر میں ڈالی تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کا فضل وکرم کتنے معمولی عمل پر بھی بندہ کو بے انتہاثواب ورحمت سے نوازتا ہے اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اللہ تعلایٰ کا شکر ادا کرتا ہے بایں طور کہ تمام نعمتوں کو اسی کی عطا جان کر اپنے ہر عضو کو اسی کام میں مشغول رکھے جس کے لئے حق تعالیٰ نے اسے پید اکی الے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے اور ان کا شکر ادا کرتا رہے ۔ کیعنکہ حدیث شریف میں آیا ہے۔ لایشکراللہ من لایشکرالناس ۔ وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا جو لوگوں کا شکر گزار نہیں ہوتا۔
خاصیت: جس شخص کی معیشت تنگ ہو یا اس کی آنکھ کی روشنی اور قلب کے نور میں کمی پیدا ہوگئی ہو تو وہ اس اسم پاک کو اکتالیس بار پانی پر پڑھ کر پئیے اور آنکھوں پر ملے انشاء اللہ تونگری حاصل ہوگی اور شفا پائے گا۔
36" العلی" بلند مرتبہ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ خدا کی ظاہری اور باطنی طاعات اور عبادات کے ذریعہ اپنے نفس کو ذلیل کرے اور اپنی تمام تر توانائی علم وعمل کے حصول میں صرف کرے یہاں تک کہ وہ انتہائی کمالات اور مراتب علای کو پہنچے ۔ حدیث شریف میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ اعلی امور کو پسند کرتا (کیونکہ اس کی وجہ سے بندہ اعلیٰ مراتب اور بلند درجات کو پہنچتا ہے ) اور ادنیٰ امور کو ناپسند کرتا ہے اسی لئے حضرت علی کرام اللہ وجہہ کا یہ مقولہ ہے کہ علو ہمتی ایمان ہی سے پیدا ہوتی ہے۔
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک پر مداومت کرے یا اس کو لکھ پر اپنے پاس رکھے تو اگر وہ کمتر اور بے قدر ہو تو بزرگ وبلند مرتبہ ہو جائے گافقروافلاس میں مبتلا ہو تو تونگری حاصل ہوگی اگر سفر کی صعوبتوں میں مبتلا ہوتووطن مالوف لوٹنا نصیب ہوگا۔
37" الکبیر" بڑا اور ایسا بڑا کہ اس کی بڑائی میں کوئی اس کا ہمسفر نہیں ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اس کی بڑائی کو ہمیشہ یاد رکھے یہاں تک کہ اس کے ماسوا کی بڑائی کو بالکل فراموش کردے علم وعمل کے حصول کے ذریعہ اپنے نفس کو کامل بنانے کی کوشش کرے تاکہ اس کے کمال اور اس کے فیض سے دوسرے مستفید ہوں۔ تواضع وانکساری اختیار کرنے میں مبالغہ کرے اور خدمت مولیٰ کو اپنے اوپر لازم قرار دے کر بے اعتنائی او بے ادبی سے احتراز کرے۔
Back to top Go down
shazia_rafiqi
Senior Member
Senior Member
avatar

Posts : 272
Points - امتياز : 599
Thanked - ووټ : 11
Join date : 2010-01-24

PostSubject: Re: 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)   Wed Jul 21, 2010 12:51 am

خاصیت : اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھنے والا بزرگ مرتبہ اور عالی قدر ہوتا ہے اور اگر حکام وفرمانروا اس اسم پاک پر مداومت کریں تو لوگوں پر ان کو خوف ودبدہ غالب ہو اور ان کے تمام امور بحسن خوبی انجان پائیں۔
38" الحفیظ" ۔ عالم کو آفات ونقصانات سے محفوظ رکھنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنے اعضاء کو گناہوں سے اور باطن کو ملاحظہ اغیار سے مھفوظ رکھے اور اپنے تمام امور میں خدا کے فیصلوں اور اس کی مشیت پر اکتفا کرے اور اس کی قضا وقدر پر راضی ہو ۔ ایک بزرگ کا یہ قول منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس شخص کے اعضاء محفوظ رکھے اس کا دل محفوظ رکھا اور جس کا دل محفوظ رکھا اس کے بھیدوں کو محفوظ کیا۔
منقول ہے کہ ایک دن اتفاق سے ایک بزرگ وصالح کی نظر کسی ممنوع چیز پر پڑگئی فورا وہ بارگاہ الٰہی میں عرض رساں ہوئے الۃ العالمین! مجھے اپنی بینائی کی بقاء کی صرف اسی لئے تمنا تھی تاکہ تیری عبادت میں کام آئے اب جب کہ تیرے حکم کی مخالفت کا سبب بن گئی ہے تو پروردگار! اسے مجھ سے چھین لے۔ چنانچہ ان کی بینائی جاتی رہی اور وہ اندھے ہوگئے وہ رات میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ بینائی جانے کے بعد رات میں انہیں پریشانی ہوئی یہاں تک کہ وہ طہارت اور وضو کے لئے پانی لینے سے بھی محتاج ہوگئے اب جب پانی ان کے ہاتھ نہ لگا اور نماز وعبادت میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو پھر خدا کے حضور عرض کیا پروردگار! میں نے خود ہی کہا تھا کہ میری بینائی مجھ سے چھین لے لیکن اب رات میں تیری عبادت کے لئے مجھے اس کی ضرورت ہے اس کے بعد خدا نے ان کی بینائی واپس کردی اور وہ ٹھیک ہوگئے۔
خاصیت: اگر کوئی شخص اس اسم پاک کو لکھ کر اپنے دائیں بازو پر باندھ لے تو وہ ڈوبنے ، جلنے، آسیب اور نظر بد وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔
39" المقیت" بدن وروح کے لئے قوت (غذا) پید اکرنے ولا اور انہیں قوت دینے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ جب اس نے یہ جان لیا کہ وہی قوت پید اکرنے والا ہے اور قوت دینے ولاا ہے تو اب اسے چاہئے کہ وہ اس کے ذکر (یعنی یاد الٰہی ) کے سامنے اپنے قوت کا ذکر(یعنی اپنی غذا کا فکر) بھول جائے کیونکہ حقیقی قوت تو اسی کا ذکر اور اسی کی یاد ہے جیسا کہ حضرت سہل سے منقول ہے کہ ان سے جب قوت کے بارہ میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ حی الذی لایموت (ایسا زندہ جو نہیں مرتا) کا ذکر ہے۔ نیز بندہ کو چاہئے کہ وہ قوت اور قوت اپنے مولیٰ کے علاوہ اور کسی سے نہ مانگے ارشاد ربانی ہے۔ وان من شئی الا عندناخزائنہ وماننزلہ الا بقدر معلوم۔ ایسی کوئی چیز نہیں ہے ہمارے پاس جس کے خزانے نہ ہوں اور ہم اسے اپنے اندازہ مقرر کے مطابق ہی اتارتے ہیں۔ نیز بندہ کو چاہئے کہ وہ اپنے ہرمتعلق کو قوت دے جس کا وہ مستحق ہے تاکہ دوسروں کو نفع پہنچانا گمراہوں کی ہدایت کرنا اور بھوکوں کو کھانا کھلانا اس کا طرہ بن جائے۔
قشیری فرماتے ہیں کہ قوت مختلف نوع کے ہوتے ہیں ایک تو یہی ظاہری غذا اور خوراک کہ جس پر انسان کی زندگی کا مدار سمجھا جاتا ہے لیکن بعض بندے تو ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عبادات کی توفیق کو ان کے نفس کا قوت، مکاشفات کے صدور کو انکے دل کا قوت اور مداومت مشاہدات کو ان کی روح کا قوت بنا دیتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نیک بندہ کو اپنی طاعت وعبادات میں مشغول کرتا ہے اور طرح کہ وہ اپنی خواہشات نفس سے بالکل قطع نظر کر کے پورے حضور اور صدق واخلاص کے ساتھ صرف اپنے مولیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کسی ایسے شخص کو مقرر فرمادیتا ہے جو اس کی خبرگیری اور خدمت کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اس کی ضروریات زندگی خود بکود پوری ہوتی رہتی ہیں لیکن جب کوئی بندہ اپنی خواہشات نفس کی تکمیل کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی خواہش کی تکمیل کو اسی کے بل بوتہ پر چھوڑ دیتا ہے اور اس کے اوپر سے اپنی عنایت ومدد کا سایہ اٹھا لیتا ہے۔
خاصیت : اگر کوئی شخص کسی کو گرب زدہ دیکھے یا خود غربت میں مبتلا ہو ، یا کوئی بچہ اپنی بدخوئی سے باز نہ آتا ہو یا بہت روتا ہو تو کسی خالی پیالہ وغیرہ پر سات بار اس اسم پاک کوپڑھ کر دم کرے اور پھر اس پیالہ میں پانی ڈال کر پی لے یا جس کو ضرورت ہو اسے پلادے۔ اسی طرح اگر کسی روزہ دار کو ہلاکت کا خوف ہو تو وہ اس اسم پاک کو کسی پھول پر پڑھ کر سونگھے انشاء اللہ اسے قوت وتقویت حاصل ہوگی اور روزے رکھنے کے قابل ہوجائے گا۔
40" الحسیب" ہر حال میں کفایت کرنے والایاقیامت کے دن حساب لینے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ محتاجوں کو کفایت کرنے والا یعنی ان کی حاجتوں کو پورا کرنے والا ہو اور اپنے نفس کا محاسبہ کرتا رہے ۔
قشیری نے اس موقع پر جو بات کہی ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندوں کو اللہ کا کفایت کرنا یہ ہے کہ وہ اس کے ہر حال میں اور ہر کام میں مددگار ہوتا ہے اور اس کا ہر کام پورا ہوتا ہے لہٰذاجب بندہ نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ میرے لئے کافی اور میری ہر مراد اور میرے ہر کام کو پورا کرنے والا ہے تو اب اس کو چاہئے کہ وہ کسی بھی دنیاوی سہارے پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اگر اسے اپنے مقصد کے حصول میں کسی بھی دنیاوی سہارے سے بوقت ضرورت فائدہ نہ پہنچے جب کہ اسے اس سہارے پر اعتماد بھی رہا ہو تو اس سے بددل اور پریشان خاطر نہ ہو بلکہ یہ یقین رکھے کہ خدا نے میرے مقدر میں جو طے فرمادیا ہے بہر صورت وہی ہوگا اگر قسمت میں حصول مقصد لکھا جاچکا ہے تو وہ ضرور حاصل ہوگا چاہے وہ دنیا وی سہار اکتنا ہی مایوس کن کویں نہ ہو اور اگر قمست میں مقصد کا حصول نہیں لکھا ہے تو وہ حاصل نہیں ہوگا چاہے وہ دنیاوی سہارا کتناہی زور کیوں نہ لگالے اور پھر یہ کہ جو شخص خد اکی طرف سے پیش آنے والی چیز پر جو کہ اگرچہ اس کا مطلب نہیں ہے اکتفا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس چیز پر راضی ومطمئن کردے گا جو اس نے اس شخص کے لئے طے فرمادی ہوگی چنانچہ اس کا اثریہ ہوگا کہ ایسا بندہ اپنے اسی وصف (یعنی راضی برضاء ہوجانے کی) بناء پر اپنے مطلوب کے عدم حصول کو اس کے حصول کے مقابلہ میں فقر کوغناکے مقابلہ میں برضاورغبت اختیار وقبول کرے گا اور بسبب مشاہدہ وتصرف مولیٰ حصول مقصد کے اسباب وذرائع مہیانہ ہونے ہی پر مطمئن ہوجائے گا۔
خاصیت: جو شخص کسی چور یا حاسد یا ہمسایہ بد اور دشمن کے شر سے ڈرتا ہو یاچشم زخم سے پریشان ہو تو وہ ایک ہفتہ تک ہر صبح وشام ستر بار حسبی اللہ الحسیب (کفایت کرنے والا اللہ میرے لئے کافی ہے) پڑھ لیا کرے اللہ تعالیٰ اسے ان چیزوں کے شر اور پریشانی سے محفوظ رکھے گا۔
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 813 مکررات 0
41 " الجلیل" بزرگ قدر۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ صفات کمال کے ذریعہ اپنے نفس کو آراستہ کر کے بزرگ مرتبہ بنے ۔
خاصیت : اگر کوئی شخص اس اسم پاک کو مشک وزعفران سے لکھ کر اپنے پاس رکھے یا کھائے تو تمام لوگ اس کی تعظیم وتوقیر کرنے لگیں گے۔
42" الکریم" بڑای سخی اور بہت دینے والا کہ اس کا دینا نہ کبھی بندہوتا ہے نہ اس کے خزانے خالی ہوتے ہیں۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ مخلوق خدا کو بغیر وعدہ کے مال وزر دیتا رہے اور ان کی ہر طرح کی مدد کرتا رہے نیز برے اخلاق اور برے فعل سے پرہیز کرے۔
خاصیت: جو شخص اپنے بستر پر پہنچ کر اس اسم پاک کو اتنا پڑھے کہ پڑھتے پڑھتے سو جائے تو اس کے لئے فرشتے دعا کریں اور کہیں اکرمک اللہ اللہ تجھے بزرگ مرتبہ کرے اور تو مکرم ومعزز ہو۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت علی اس اسم کو بہت زیادہ پڑھا کرتے تھے اسی وجہ سے انہیں کرم اللہ وجہہ کہا جانے لگا۔
43" الرقیب" ہرچیز کی نگہبانی کرنے ولاا۔ اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ بندوں کے احوال افعال جاننے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ہمہ وقت اور ہر حال میں اللہ ہی پر نظر رکھے اس کے علاوہ کسی اور سے سوال نہ کرے کہ ماسواللہ کی طرف التفات ظاہر ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسے جن کی نگہبانی اور دیکھ بھال پر مقرر فرمایا ہے ان کی نگہبانی اور دیکھ بھال میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ کرے۔
حدیث شریف میں آیا ہے کہ تم سب راعی یعنی نگہبان ہو اور تم سب سے اپنی رعیت کے بارہ میں محاسبہ کیا جائے گا یعنی جن کی نگہبانی اور خبر گیری پر تمہیں متعین کیا گیا ہے ان کی نگہبانی اور خبر گیری کا حال تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنا فرض کہا تک ادا کیا؟
قشیری کہتے ہیں کہ اس طائفہ یعنی اولیاء اللہ کی جماعت کے نزدیک مراقبہ کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ پر دل کے ساتھ۔۔۔ اللہ کی یاد غالب ہو اور یہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ میرے حال پر مطلع ہے لہٰذا وہ ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرے اور ہر دم اس کے کے عذاب سے ڈرے چنانچہ صاحب مراقبہ اللہ تعالیٰ کی حیا اور اس کی ہیبت کی وجہ سے خلاف شرع باتیں اس شخص سے زیادہ چھوڑتا ہے جو عذاب خداوندی کے ڈر سے گناہ چھوڑتا ہے اور جو شخص اپنے دل کی رعایت کرتا ہے یعنی ضمیر کے صحیح تقاضے پر ہی عمل کرتا ہے تو اس کا کئی لمحہ خدا کی یا داو راس کی اطاعت سے خالی نہیں رہتا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ایک ایک لمحہ اور ایک ایک عمل کا حساب لے گا خواہ وہ چھوٹے سے چھوٹا عمل ہو یا بڑے سے بڑا۔
چنانچہ ایک ولی کے بارہ میں منقول ہے کہ ان کے انتقال کے بعد انہیں کسی نے خواب میں دیکھاتو ان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا اور مجھ پر اپنا احسان فرمایا لییکن پورا حساب لیا یہاں تک مجھ سے اس عمل کا بھی مواخذہ کیا کہ ایک دن میں روزے سے تھا جب افطار کا وقت ہو اتو میں نے اپنے ایک دوست کی دکان سے گیہوں کا ایک دانہ اٹھا لیا اور پھر سے توڑے معاً مجھے خیال آیا کہ گیہوں کا یہ دانہ میری ملکیت میں نہیں ہے یہ خیال آتے ہی میں نے اس دانے کو اس جگہ ڈال دیا چنانچہ اب جب کہ میرا حساب لیا گیا تو اس گیہوں کے توڑنے کی بقدر نیکی میری نیکیوں سے لی گئی۔
غور کرنے کی بات ہے کہ جس شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ اسے ایک دن خدا کی بارگاہ میں اتنی چھوٹی سے چھوٹی سے باتوں کا بھی حساب دینا ہے تو کیا وہ گوارا کرے گا کہ اپنی عمر عزیز باطل چیزوں میں ضائع کرے۔ اور اپنے وقت کوتاہیوں اور غفلتوں کی نذر کردے؟ حدیث شریف میں منقول ہے کہ تم اپنے اعمال کا خود محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تم سے تمہارے اعمال کا حساب لیا جائے۔
خاصیت: جو شخص اپنی بیوی، اپنی اولاد، اور اپنے مال پر اس اسم پاک کو سات مرتبہ پڑھ کر ان کے چاروں طرف دم کرے وہ تمام دشمنوں اور تمام آفات سے بے خوف ہوجائے گا۔
44" المجیب" عاجزون کی دعا قبول کرنے والا اور پکارنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اوامر ونواہی میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرے اور حاجتمندوں کی حاجتوں کو پورا کرے۔
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک کو بہت پڑھے اور پھر دعا کرے تو اس کی دعا جلد قبول ہوگی اور اگر اسلے لکھ کر اپنے پاس رکھے تو حق تعالیٰ کی امان میں رہے گا۔
45" الواسع" ۔ وسیع علم والا اور اپنی نعمتوں سے سب کو نوازنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اپنے علم میں اپنی سخاوت میں اور معارف واخلاق میں وسعت پید اکرنے کی کوشش کرے سب ہی سے چہرہ کی بشاشت اور کشادگی کے ساتھ پیش آئے اور دنیاوی مقاصد کے حصول میں فکرمند نہ رہا کرے۔
خاصیت : جو شخص اس اسم پاک کو بہت پڑھے اور اس پر ہمیشگی اختیار کرے حق تعالیٰ اسے قناعت اور برکت کی دولت سے نوازے گا۔
46" الحکیم" دانا اور استوار کار۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ کتاب اللہ میں مذکور صفات حمیدہ کو اپنائے اور کمال تعلق اس سے پیدا کرنے کی کوشش کرے اور اپنے تمام امور میں استوار پیدا کرے نیز اسے چاہئے کہ وہ سفاہت یعنی بے وقوفی سے پرہیز کرے اور کوئی کام بغیر باعث حقانی اور بغیر داعیہ ربانی نہ کرے تاکہ اس کی ذات اسم حکیم کا پر تو ثابت ہو۔
حضرت ذوالنون مصری کے بارہ میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا جب میں نے سنا کہ مغرب کے علاقہ میں ایک شخص اپنے علم وحکمت کی بناء پر بہت مشہور ومعروف ہیں تو میں ان کی زیارت کے لئے ان کے پاس پہنچا میں چالیس دن تک ان کے دروزے پر پڑا رہا اور میں یہ دیکھتا تھا کہ وہ نماز کے وقت مسجد میں آتے اور حیران وپریشان پھرنے لگتے اور میری طرف قطعاً کوئی توجہ والتفات نہ فرماتے اس صورت حال سے میں تنگ آگیا تو ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ جناب ! چالیس دن سے میں یہاں پڑا ہو لیکن نہ توآپ میری طرف التفات کرتے ہیں اور نہ مجھ سے کلام کرتے ہیں؟ آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے اور کچھ باحکمت باتیں بتائیے کہ اسے میں یاد رکھو۔ انہوں نے کہا کہ تم اس پر عمل کرو گے یا نہیں؟ میں نے کہا ہاں اگر خدا نے توفیق دی تو ضرور عمل کروںگا۔ پھر انہوں نے حکمت وموعظت سے بھرپور یہ بات مجھ سے کہی کہ دنیا کو دوست نہ رکھو ، فقر کو غنیمت جانو، بلا کو نعمت سمجھو ، منع یعنی نہ ملنے کو عطا جانو، غیراللہ کے ساتھ نہ انس اختیار کرو اور نہ ان کی صحبت میں اپنے کو مشغول رکھو، خواری کو عزت سمجھو، موت کو حقیقی حیات جانو، طاعت وعبادت کو اپنی عزت کا ذریعہ سمجھو اور توکل کو اپنی معاش قرار دو۔
از سینہ محوکن ہمہ نام ونشان غیر الا کسے کہ می دہد از وے نشان ترا
خاصیت: اگر کسی شخص کو اپنے کسی کام میں پریشانی ہو اور وہ پورانہ ہو رہا ہو تو اسے چاہئے کہ اس اسم پاک پر مداومت اور ہمیشگی اختیار کرے انشاء اللہ تعالیٰ اس کا کام پورا ہوجائے گا۔
47" الودود" فرمانبردار بندوں کو دوست رکھنے والا یا ولیاء اللہ کے قلوب میں محبوب۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ مخلوق خدا کے لئے وہی چیز پسند کرے گا جو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور ان پر اپنی بساط بھر احسان کرتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
بندوں کو اللہ تعالیٰ کا دوست رکھنا یہ ہے کہ کہ وہ بندوں پر اپنی رحمت نازل کرتا ہے۔ ان کی تعریف کرتا ہے ان کو خیروبھالئی پہنچاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو بندوں کا دوست رکھنا یہ ہے کہ وہ اس کی تعظیم کرتے ہیں۔ اور اپنے قلوب میں اس کی ہیبت وبڑائی رکھتے ہیں ۔ حدیث میں منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے دوستوں میں بڑا دوست وہ ہے جو غیر عطا کے لئے میری عبادت کرتا ہے یعنی وہ عطا وبکشش کی امید سے نہیں بلکہ صرف میری رضا اور خوشنودی کی خاطر ہی عبادت کرتا ہے۔
خاصیت: اگر میاںبیوی کے درمیان ناچاقی پیدا ہوجائے اور تعلقات انتہائی کشیدہ ہوجائیں تو اس اسم پاک کو سکی کھانے کی چیز پر ایک ہزار ایک مرتبہ پڑھ کر دونوں میں سے اس کو کھلادیا جائے جس کی طرف سے ناچاق پیدا ہوتی ہو انشاء اللہ ان دونوں کے درمیان اتفاق والفت کی فضا بحال ہوجائے گی۔
48" المجید" بزرگ وشریف ذات۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب وہی ہے جو اسم مبارک العظیم کے بارہ میں ذکر کیا جاچکا ہے۔
خاصیت: جس شخص کو آبلہ پا، یا باد فرنگ (آتشک) یا برص اور یا جذم کا مرض لاحق ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ایام بیض میں روزے رکھے اور افطار کے وقت اس اسم پاک کو بہت پڑھے اور دم کر کے پی لے خدا نے چاہا تو یقینا شفا پائے گا اور جس شخص کو اپنے ہم عصروں اور ہم جنسوں میں عزت واحترام کی نظر سے نہ دیکھا جاتا ہو تو وہ ہر صبح اس اسم پاک کوننانوے مرتبہ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرے اس عزت واحترم حاصل ہوگا۔
49" الباعث" ۔ مردون کی قبروں سے اٹھانے ولاا اور زندہ کرنے ولا اغافلوں کا دل خواب غفلت سے بیدار کرنے والا ۔ اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ جاہل نفسوں کو تعلیم دے کر اور نصیحت کرے انہیں دنیا سے بے رغبتی کا احساس دلا کر اور آخرت کی نعمتوں کا راغب بنا کر جہالت وغفلت کے خواب سے انہیں بیدار کرے اور ان کے مردہ قلوب کو زندہ کرے۔ چنانچہ وہ اپنے نفس سے اس کی ابتدا کرے اس کے بعد دوسروں کی طرف متوجہ ہو۔
خاصیت: اگر کوئی یہ چاہے کہ اس کے قلب کو حقیقی زندگی ملے تو سوتے وقت اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر اس اسم پاک کو ایک سو ایک بار پڑھے ۔ حق تعالیٰ اس کے دل کی مردنی کو دور کرے گا اور اسے حیات بخش کر انوار کا مسکن بنائے گا۔
50" الشہید" حاضر اور ظاہروباطن پر مطلع ۔ قشیری کہتے ہیں کہ اہل معرفت اللہ سے اس کی ذات کے علاوہ اور کسی مونس کی خواہش نہیں کرتے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ صرف اسی ذات پر خوش اور مطمئن رہتے ہیں کیونکہ صرف خدا ہی ان کے تمام احوال پر نظر رکھتا ہے اور وہی ان کے تمام امور وافعال کو جانتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ اولم یکف بربک انہ علی کل شئی شہید۔ کیا تمہارا پروردگار تمہارے لئے اس بات میں کافی نہیں کہ وہ ہرچیز پر مطلع ہے ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اس بات کا دھیان رکھے کہ اس کا پروردگار اس کو کسی ایسی جگہ نہ دیکھے جو اس کے لئے پروردگار کی طرف سے ممنوع ہے یعنی برائی کی جگہ اور اس کو کسی بھی ایسی جگہ سے غیر موجود نہ دیکھے جہاں اس کو موجود رہنے کا اس نے حکم دیا ہے (یعنی بھلائی کی جگہ) اور اس یقین کی بناء پر کہ اللہ تعالیٰ میرے حال کو مجھ سے اچھی طرح جانتا ہے اور وہ میری حالت کو بخوبی دیکھتا ہے، غیراللہ کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرنے اور غیراللہ کی طرف بنظر امید رغبت ومیلان رکھنے سے باز رہے نیز بندہ پر اس اسم کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ صرف سچائی کا گوابنے اور سچائی ہی کی رعایت کرے۔
خاصیت: اگر کسی شخص کا لڑکا نافرمان ہو یا اس کی لڑکی غیر صالح ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ہروروز صبح کے وقت اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر رکھے اور اس کا منہ آسمان کی طرف اٹھوا کر یا شہید اکیس بار پڑھے حق تعالیٰ اسے فرمانبردار اور صالح بنائے گا۔
51" الحق" شہنشاہی کے ساتھ قائم اور خدائی کے لائق۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ جب اس نے جان لیا کہ اسی کی ذات حق ہے تو اب وہ اس کے مقابلہ میں مخلوق کی یاد اور مخلوق کی طلب بھول جائے ۔ نیز اس اسم کا تقاضہ یہ ہے کہ بندہ اپنے تمام اقوال وافعال اور احوال میں حق بات اور حق چیز ہی کو اپنے اوپر لازم کرے۔
خاصیت: اگر کسی کی کوئی چیز گم ہوگئی تو ایک کاغذ کے چوروں کونوں پر اس اسم پاک کو لکھے اور کاغذ کے بیچ میں اس چیز کا نام لکھے اور پھر آدھی رات کے وقت اس کاغذ کو ہتھیلی پر رکھ کر اور آسمان کی طرف نظر کرکے حق تعالیٰ سے اس اسم پاک کی برکتا اور اس کے وسیلہ کے ذریعہ اس چیز کے حصول کی دعا کرے۔ انشاء اللہ یا وہ چیز جوں کی توں مل جائے گی یا اس کا کچھ حصہ حاصل ہوجائے گا اور اگر کوئی قیدی آدھی رات کے وقت ننگے سر ہو کر اس اسم پاک کو ایک سو آٹھ مرتبہ پڑھے تو حق تعالیٰ اسے رہائی نصیب کرے گا۔
52" الوکیل" کارساز۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وکفی باللہوکیلا (یعنی کارساز ہونے میں اللہ کفایت کرتا ہے) اور وعلی اللہ فتوکولا ان کنتم مومنین اگر تم مومن ہو تو اپنا ہر کام اللہ ہی کی طرف سونپو ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ (جو شخص الل ہی پر بھروسہ اور اعتماد کرتا ہے اور اللہ اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے) اور وتوکل علی الحی الذی لایموت (یعنی ایسے زندہ پر بھروسہ اور اعتماد کرو جو غالب اور مہربان ہے۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ضعیف اور لاچار لوگوں کا مدد گار ومعاون بنے اور ان کے کام کاج کرتا رہے ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں اس طور پر سعی وکوشش کرے کہ گویا وہ ان کا وکیل ہے۔
خاصیت: اگر بجلی گرنے کا خوف ہو یا پانی اور آگ سے کسی نقصان کا خطرہ ہو تو اس اسم پاک کا ورد کیا جائے تو انشاء اللہ امان ملے گی اور اگر کوئی شخص اس اسم پاک کو کسی خوف وخطر کی جگہ بہت پڑے تو وہ بے خوف وبے خطر ہوگا۔
Back to top Go down
shazia_rafiqi
Senior Member
Senior Member
avatar

Posts : 272
Points - امتياز : 599
Thanked - ووټ : 11
Join date : 2010-01-24

PostSubject: Re: 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)   Wed Jul 21, 2010 12:52 am

53" القوی ۔"
"54 المتین" قوت والا اور تمام امور میں استوار۔
ان سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ خواہشات نفسانی پر غالب اور قوی ہو دین کے معاملہ میں سخت وچست رہے اور شرعی احکام کو نفاذ کرنے اور پھیلانے میں کسی سستی اور کمزوری کو راہ نہ دے۔
خاصیت: اگر کسی کا دشمن قوی ہو اور وہ اس کے دفاوع میں عاجز اور لاچار ہو تو تو وہ تھوڑا ساآٹا گوندھے اور اس کی ایک ہزار ایک سو گولیا بنا لے۔ پھر ایک ایک گولی اٹھاتا جائے اور یا قوی پڑھتا جائے اور اس گولی کو بہ نیت دفاع دشمن مرغ کے آگے ڈالتا رہے حق تعالیٰ اس کے دشمن کو مغلوب ومقہور کردے گا اور اگر اس اسم پاک کو جمعہ کی شب میں بہت زیادہ پڑھا جائے تو نسیان کا مرض جاتا رہے گا اگر کسی بچہ کا دودھ چھٹایا گیا ہو اور وہ بچہ اس کی وجہ سے صبروقرار نہ پاتا ہو تو اس اسم پاک کو لکھ کر اس بچہ کو پلادے اس صبر وقرار آجائے گا ، اسی طرح اگر کسی دودھ والی کے دودھ میں کمی ہوتو اس اسم پاک کو لکھ کر اس کو پلادیا جائے اس کے دودھ میں فراوانی آجائے گی اور اگر کوئی شخص ملک وحکومت کے کسی منصب یا کام پانے کی خواہش رکھتا ہو تو وہ اس کو اتوار کے روز اول ساعت میں اپنے مقصد کی نیت سے اس اسم المتین کو تین سو ساٹھ بار پڑھے ۔ انشاء اللہ اس کو وہ منصب حاصل ہوگا۔
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 814 مکررات 0
55 " الولی" مددگار اور مومنوں کو دوست رکھنے والا ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ میل ملاپ اور دوستی رکھے اور دین کی تائید وحمایت میں کوشش کرے اور مخلوق خدا کی حاجتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے ۔
قشیری کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی علامات میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس بندہ کو دوست رکھتا ہے اسے ہمیشہ خیر وبرکت بھلائی کی توفیق دیتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بندہ اگر بتقاجائے بشریت کسی برائی کا ارادہ بھی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ارتکاب سے اسے بچاتا ہے اور اگر وہ ناگہاں اس برائی میں مبتلا ہو بھی جاتا ہے تو اسے اس میں مبتلا نہیں رہنے دیتا بلکہ جلد ہی توبہ وانابت کے ساتھ اس برائی سے نکال لیتا ہے ۔ چنانچہ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ۔ اذا احب اللہ عبدا لم یضرہ ذنب۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کو دوست رکھتا ہے تو اس کو گناہ نقصان نہٰں پہنچاتا ۔
اور اگر طاعت وعبادت میں کوتاہی وقصور کی طرف اس کا میلان ہوتا ہے تو حق تعالیٰ اسے طاعت وعبادت میں مشغول ہونے ہی کی توفیق عطا فرماتا ہے اور یہی بات بندہ کی سعادت کی علامت قرار پاتی ہے جب کہ اس کا عکس بندہ کی شقاوت وسیاہ بختی کی علامت ہے نیزاللہ تعالیٰ کی دوستی کی ایک اور علامت اور اس کا ثر یہ بھی ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے اولیا کے قلوب میں ایسے بندہ کی محبت جاگزیں کردیتا ہے جس کی وجہ سے اولیاء اللہ اس بندہ سے کمال تعلق اور مہربانی سے پیش آتے ہیں۔
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھتا ہے وہ مخلوق خدا کی دل کی باتوں پر آگاہ ہو اور اگر کسی شخص کی بیوی یا لونڈی ایسی سیرت وعادت کی حامل ہو کہ اس کے لئے باعث کوفت اور باعث اذیت ہو تو اسے چاہئے کہ جب وہ اس بیوی لالونڈی کے سامنے جلانا چاہے تو اس اسم پاک کو بہت پڑھے حق تعالیٰ اسے صلاحیت ودرستی کی راہ پر لگائے گا۔
56" الحمید" اپنی ذات صفات کی تعریف کرنے والا یا تعریف کیا ہوا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ ہمیشہ حق کی تعریف کرنے والا رہے ۔ صفات کمالیہ کے ساتھ اپنی ذات کو آراستہ کرے یا اپنے اعمال حسنہ اور اخلاق حمیدہ کی بناء پر خدا اور خدا کی مخلوق دونوں کی نظروں میں ایسا ثابت ہو کہ اس کی تعریف کی جائے۔
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھے اس کے افعال پسندیدہ ہوں گے اور اگر کسی شخص پر فحش گوئی اور بدزبانی غالب ہو کہ اس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے پر قادر نہ ہو تو اسے چاہیے کہ اس اسم پاک کو کسی پیالہ پر لکے یا بعض حضرات کے قول کے مطابق اس اسم پاک کو اس پالہ پر نوے بار پڑھے ور ہمیشہ اسی پیالہ میں پانی پیتا رہے انشاء اللہ فحش گوئی اور بدزبانی سے محفوظ رہے گا۔
57" المحصی" اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کے نزدیک تمام مخلوقات کی تعداد ظاہر ہے ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ خواہ حرکت کی حالت میں ہویا سکون کی حالت میں یعنی کسی بھی لحظہ اور کسی بھی لمحہ غفلت میں مبتلا نہ وہ اور اس کا ایک ایک سانس یاد الٰہی کے ساتھ باہر آئے کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ اہل جنت اس لمحہ پر حسرت وافسوس کریں گے جو یاد الٰہی کے بغیر گزرا ہوگا ۔ نیز اس بات کی کوشش کرے کہ اپنے اعمال اور باطنی احوال پر مطلع رہے۔ اور اس اسم کا تقاضہ یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اسے جن نعمتوں سے نوازا ہے ان کو شمار کرتا رہے تاکہ وہ ان کا شکر ادا کرے کے خدا کے سامنے اپنے آپ کو عاجز ومحتاج سمجھے اور اپنے گناہوں کوشمار کرے۔ ان کی وجہ سے شرمندہ وشرمسار و معذرت خواہ ہو اور ان ایام اور لمحات کو یاد کرکے حسرت وافسوس کرے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس کی یاد سے خالی رہے ہوں۔
خاصیت: جو شخص شب جمعہ میں اس اسم پاک کو ایک ہزار ایک مرتبہ پڑھ لیا کرے حق تعالیٰ اسے عذاب قبر اور عذاب قیامت سے محفوظ رکھے گا۔
58" المبدیئ۔
.59 المعید" پہلی مرتبہ پیدا کرنے والا اور دوبارہ پیدا کرنے والا۔
ان ناموں سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ہر معاملہ اور ہرچیزمیں اللہ رب العزت کی رف اول بار بھی اور دوبارہ بھی رجوع کرے۔ نیکیاں پیدا کرنے میں سعی وکوشش کرے اور جو نیک عمل کرنے سے رہ گیا ہو یا جس عمل میں کوئی کمی اور کوتاہی ہوگئی ہو اس کا اعادہ کرے یعنی ان کو دوبارہ کرے۔
خاصیت: جس کی بیوی کو حمل ہو اور اسقاط حمل کا خوف ہو یا ولادت میں غیر معمولی تاخیر ہورہی ہو تو خاوند کو چاہئے کہ وہ اس اسم پاک المبدیء کو نوے بار پڑھے اور شہادت کی انگلی اسے پیٹ کے چاروں طرف پھیرے انشاء اللہ حمل ساقط ہونے کا خوف نہٰں رہے گا اور ولادت سے باطمینان اور بلاکسی ضرر جلد فراغت حاصل ہوگیاور جو شخص اس اسم پاک پر مداومت کرے یعنی اس کو پڑھنے پر ہمیشگی اختیار کرے تو اس کی زبان سے وہی بات نکلے گی جو صحیح اور باعث ثواب ہوگی۔
اگر کسی شخص کا کوئی عزیز وغیرہ غائب ہوگیا ہو اور اس کی آمد یا خیریت کی طلب کا خواہش مند ہو تو اس وقت جب کہ اس کے گھروالے سوگئے ہوں اس اسم پاک کو گھر کے چاروں کونوں میں ستر بار پڑھے اور اس کے بعد کہے یا معید فلاں شخص کو میرے پاس واپس بلادے یا اس کی خیریت معلوم کرادے ، سات دن بھی گزرنے نہ پائیں گے کہ یا تو غائب آجائے گا یا اس کی خیریت معلوم ہوجائے گی۔ اور اگر کسی شخص کی کوئی چیز گم ہوئی ہو تو وہ اس اسم المعید کو بہت زیادہ پڑھتا رہے انشاء اللہ اس کی وہ چیزمل جائے گی ۔
60" المحی ۔
61 الممیت" زندہ کرنے والا اور مارنے والا ۔ یعنی الہ تعالیٰ نور ایمان کے ذریعہ قلوب کو زندہ کرتا ہے اور جسم میں زندگی پیدا کرتا ہے نیز وہی جسم کو موت دیتا ہے اور قلوب کو غفلت ونادانی کے ذریعہ مردہ کرت ہے۔
ان دونوں ناموں سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ علم سے نفع پہچا کر مخلوق خدا کو اور مغفرت الٰہی کی شمع جلا کر قلب کو زندگی وتازگی کی دولت بخشے اور نفسانی خواہشات اور شیطانی خطرات ووساوس کو موت کے گھاٹ اتارے ، نیز یہ حیات کی تمنا کرے اور نہ موت کی آرزو بلکہ قضاء وقدر الٰہی کا تابعدار بنے اور یہ دعا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے پڑھتا رہے۔ اللہم احینی ماکان الحیوۃ خبرا لی وتوفنی اذا کانت الوفاۃ خیرا لی واجعل الحیوۃ زیادۃ فی کل خیرواجعل الموت راحۃ من کل شر۔ اے اللہ مجھے زندگی دے کہ جب تک کہ زندگی میرے لئے بہتر ہو اور مجھے موت دے جب کہ موت میرے لئے بہتر ہو اور میری زندگی کو ہر خیروبھلائی میں زیادتی کا سبب اور موت کو ہر برائی سے راحت کا باعث بنا دے۔
خاصیت: جو شخص کسی درد، رنج وتکلیف اور کسی عضو کے ضائع ہوجانے کے خوف میں مبتلا ہو تو وہ اس اسم پاک المحی کو سات بار پڑھے حق تعالیٰ اسے خوف سے نجات دے گا نیز درد ہفت اندام کو دور کرنے کے لئے سات توروز تک یہ اسم پڑھا کرے اور ہر روز پڑھ کر دم کیا جائے اور جو شخص اس اسم پاک کے پڑھنے پر ہمیشگی اختیار کرے تو اس کے دل کو زندگی اور بدن کو قوت حاصل ہوگی جو شخص اپنے نفس پر قادر نہ ہو کہ اتباع شریعت کے معاملہ میں اس کا نفس اس پر غالب ہو یعنی اسے اتباع شریعت سے باز رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ سوتے وقت سینہ پر ہاتھ رکھ کر اسم پاک الممیت اتنا زیادہ پڑھا کرے کہ پڑھتے ہوئے سو جائے تو حق تعالیٰ اس کے نفس کو مطیع وفرمانبردار بنادے گا۔
62" الحی" ازل سے ابد تک زندہ رہنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد کے ذریعہ زندہ رہے اور اپنی جان اس کی راہ میں قربان کردے۔ یعنی راہ خدا میں شہید ہو کر ابدی حیات حاصل کرے۔
خاصیت: اگر کوئی شخص بیمار ہو تو اس اسما پاک کو بہت پڑھتا رہے یا کوئی دوسرا شخص اس بیمار پر اور بعض حضرات کے قول کے مطابق آنکھ سامنے کر کے اسے بہت پڑھے تو حق تعالیٰ اسے صحت عطا فرمائے گا اور جو شخص ہر روز ستربار اس اسم کو پڑھ لیا کرے تو اس کی عمر دراز ہوگی اور اس کی قوت روحانیہ میں اضافہ ہوگا۔
63" القیوم" خود بھی قائم اور مخلوقات کا قائم رکھنے والا اور خبرگیری کرنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ماسوااللہ سے بالکل بے پروا ہوجائے ۔
قشیری فرماتے ہیں کہ جس نے یہ جانا اللہ تعالیٰ قیوم ہے تو اس نے تدبیرواشتغال سے نجات پائی اور راحت وتفویض کے ساتھ اپنی زندگی گزاری لہٰذا اب نہ تو بخل کرے گا اور نہ دنیا کی کسی بھی بیش قیمت چیز کو کوئی اہمیت دے گا۔
خاصیت: جو شخص بوقت سحر اس اسم کو بہت زیادہ پڑھا کرے تو لوگوں کے قلوب میں اس کا تصرف ظاہر ہوگا یعنی تمام لوگ اسے محبوب و دوست رکھیں گے اور اگ رکوئی شخص اس اسم کو بہت زیادہ پڑھے تو اس کے تمام امور بحسب دلخواہ پورے ہوں گے۔
64" الواجد" غنی کہ کسی چیز میں کسی کا محتاج نہیں۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ ضروری کمالات عالیہ حاصل کرنے میں سعی وکوشش کرے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے ماسوی اللہ سے مستغنی و بے پرواہ ہو۔
خاصیت: اگر کوئی شخص کھانا کھاتے وقت ہر نوالے کے ساتھ یہ اسم پاک پڑھے تو وہ کھانا اس کے پیٹ میں نور ہوگا اور اگر کوئی خلوت میں اس اسم کو پڑھے تو تونگر ہوگا۔
65" الماجد" بزرگ نصیب ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب وہی ہے جو اس سے پہلے نام کے سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے۔
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک کو خلوت میں پڑھے اتنا کہ بے ہوش ہوجائے اس کے دل پر انوار الٰہ ظاہر ہوں گے اور کوئی شخص اس کو بہت پڑھتا رہے تو مخلوق خدا کی نظروں میں بزرگ مرتبہ ہو۔
66" الواحد۔
67 الاحد" ذات وصفات میں یکتا ویگانہ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ عبادت وبندگی میں یکتا ویگانہ بنے جیسا کہ اس کا معبود خدائی میں یکتا ویگانہ ہے ۔ اور ایسے فضائل سے اپنی ذات کو آراستہ کرے کہ اس کا کوئی ہم جنس اس کے مثال نہ ہو۔
خاصیت: اگر کسی کا دل خلوت سے ہراساں ہوتو اسے چاہئے کہ وہ اس اسم پاک کو ایک ہزار ایک مرتبہ پڑھے انشاء اللہ اس کے دل سے خوف جاتا رہے گا اور بارگاہ حق جل مجدہ کا مقرب ہوگا اور اگر کسی کا فرزند پیدا ہونے کی تمنا ہو تو وہ اس کو لکھ کر اپنے پاس رکھے اللہ تعالیٰ اسے فرزند عطا کرتے گا۔
68" الصمد" بے پروا کہ کسی کا محتاج نہیں اور سب اس کے محتاج۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اپنی ہر حاجت میں اللہ ہی کی طرف رجوع کرے ، اپنے رزق سے بے فکر رہے ، اس کی ذات پر توکل کرے دنیا کی حرام چیزوں سے بچے دنیا کی زینت کی چیزوں کی طرف رغبت نہ کرے، دنیا کی حلال چیزوں کے حصول کی بھی ہوس نہ کرے، مخلوق سے اپنے آپ کو بے پروا رکھے اور مخلوق خدا کی حاجت روائی کی سعی وکوشش کرتا رہے۔
خاصیت: جو شخص بوقت سحر یا آدھی رات کو سجدہ کرے اور اس اسم پاک کو ایک سوپندرہ بار پڑھے اللہ تعالیٰ اسے صادق الحال بنائے گا اور کسی ظالم کے ہاتھ نہیں لگے گا۔ اور جو شخص اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھتا رہے وہ بھوکا نہیں رہے گا۔ اور اگر حال وضو میں اسے پڑھے گا تو مخلوق خدا سے بے پروا ہو۔
69" القادر ۔
70المقتدر۔ قدرت والا۔ اور قدرت ظاہر کرنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو خواہشات ولذات سے باز رکھنے پر قادر ہو۔
خاصیت: اگر کوئی شخص وضو میں وضو کے ہر عضو کو دھوتے وقت اسم پاک " القادر" پڑھ لیا کرے تو وہ کسی ظالم کے ہاتھوں گرتار نہٰں ہوگا اور کوئی دشمن اس پر فتحیاب نہ ہوگا اور اگر کوئی مشکل کام پیش آئے تو اکتالیس مرتبہ یہ اسم پڑھ لیا جائے خدا نے چاہ اتو کام بحسن وخوبی انجام پذیر ہوگا۔
اگر کوئی شخص اسم پاک " المقتدر" کو پابندی کے ساتھ پڑھتا رہا تو غفلت ہوشیاری میں بدل جائے گی اور جو شخص سو کر اٹھتے وقت یہ اسم پاک بیس بار پڑھ لیا کرے تو اس کے تمام کام حق تعالیٰ کی طرف راجع ہوں۔
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 815 مکررات 0
71 " المقدم ۔ المؤخر" دوستوں کو اپنی درگاہ عزت کا قرب بخش کر آگے بڑھانے والا اور دشمنوں کو اپنے لطف وکرم سے دور رکھ کر پیچھے ڈالنے والا۔
ان دونوں پاک ناموں سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ نیکیوں میں پیش قدمی اختیار کر کے اپنے آپ کو آگے کرے یعنی دوسروں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو افضل بنائے اور ان لوگوں کو آگے کرے جو اللہ رب العزت کی بارگاہ عزت کے مقربین میں سے ہیں یعنی ان کو عزیز رکھے اور نفس اور شیاطین کو اور ان لوگوں کو جو بارگاہ کبریائی کے ٹھکرائے ہوئے ہیں پس پشت ڈالے ، نیز اپنے تمام امور واعمال کو ضابطہ وقاعدہ کے مطابق انجام دے۔ مثلاً پہلے وہ کام اور عمل کرے جو سب سے زیادہ ضروری ہو اور جسے خدا نے سب سے مقدم کیا ہو اور سب سے بعد میں اس عمل کو اختیار کرے جو سب سے کم ضروری ہو۔
خاصیت: اگر کوئی شخص معرکہ جنگ میں اس اسم پاک " المقدم" پڑھے یا اسے لکھ کر اپنے پاس رکھے تو اسے کوئی گزند نہیں پہنچے گا اور جو شخص اس اسم پاک کو بہت پڑھتا رہے تو اس کا نفس طاعت الٰہی کے لئے فرمانبردار ومطیع ہوجائے گا۔
جو شخص یہ اسم پاک
72 " الموخر" سو مرتبہ پڑھے اس کے دل کو غیراللہ کے ساتھ قرار نہیں ملے گا۔ اور جو شخص روزانہ اس اسم پاک کو سوبار پڑھ لیا کرے تو اس کے تمام کام انجام پذیر ہوں اور جو شخص اس کو اکتالیس مرتبہ پڑھے اس کا نفس مطیع وفرمانبردار ہو۔
73" الاول۔
74الآخر" ۔ سب سے پہلے اور سب سے پیچھے۔
ان سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اللہ کی عبادات اور اس کے احکام بجالانے میں جلدی کرے اور اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان قربان کرے تاکہ حیات ابدی حاصل ہو۔
خاصیت: اگر کسی کو اولاد نرینہ نہ ہوتی ہو تو اس اسم پاک الاول چالیس دن تک ہرروز چالیس مرتبہ پڑھے اس کی مراد پوری ہوگ۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ فرزند، غنا یا اور کسی چیز کی حاجت وتمنا ہو تو وہ چالیس جمعوں کی راتوں میں ہر رات ایک ہزار مرتبہ یہ اسم پڑھے انشاء اللہ اس کی تمام حاجتیں پوری ہوں گی۔
جو شخص اپنی عمر کے آخری مرحلہ میں ہو اور اس کی پوری زندگی بدعملیوں اور گناہوں میں گزری ہو تو وہ اس اسم پاک الآخر کو اپنا ورد قرار دے لے حق تعالیٰ اس کا خاتمہ بخیر کرے گا۔
75" الظاہر۔
76الباطن" ۔ اپنی مصنوعات اور مخلوقات کے اعتبار سے جو اس کے کمال صفات کی دلیل ہیں، آشکار! اور اپنی ذات کی حقیقت وکنہ کے اعتبار سے وہم وخیال سے مخفی۔
خاصیت: ضو شخص نماز اشراق کے بعد اسم پاک الظاہر پانچ سو مرتبہ پڑھ لیا کرے حق تعالیٰ اس کی آنکھیں روشن ومنور کرے گا اگر طوفان بادوباران وغیرہ کا خوف ہو تو یہ اسم پاک بہت زیادہ پڑھاجائے امن وعافیت حاصل ہوگی۔ اگر اس اسم پاک کو گھر کی دیواروں پر لکھ دی جائے تو وہ دیواریں محفوظ وسلامت رہیں گی۔
جو شخص ہر روز یا باطن تینتیس بار کہہ لیا کرے حق تعالیٰ اسے صاحب اسرار الٰہی بنائے گا۔ اور اگر کوئی شخص اس پر مداومت اختیار کرے تو اس پر جس کی بھی نظر پڑے گی اس کا دوست بن جائے گا۔
77" الوالی" ۔ کارساز ومالک ۔
اس اسم پاک سے بندہ کا نصیب وہی ہے جو اسم پاک الوکیل کے ضمن میں نقل کیا جاچکا ہے۔
خاصیت: اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اس کا یا اس کے علاوہ کسی اور کا گھر معمور وآباد ہو اور بارش ودیگر آفات سے محفوظ رہے تو اسے چاہئے کہ کوزہ آب نارسیدہ پر یہ اسم پاک لکھے اور اس کوزہ میں پانی ڈال کر اس کوزہ کو گھر کی دیوار پر مارے ، گھر اور درودیوار محفوظ وسلامت رہیں گے۔
بعض حجرات نے یہ لکھا ہے کہ اسم پاک الوالی کو تین سو مرتبہ پڑھنے سے بھی یہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے اور اگر کسی شخص کی تسخیر کی نیت سے یہ اسم پاک گیارہ مرتبہ پڑھا جائے تو وہ شخص اس کا مطیع وفرمانبردار ہوجائے گا۔
78" المتعالی" بہت بلند مرتبہ ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب وہی ہے جو اس نام پاک العلی کے سلسلہ میں نقل کیا جاچکا ہے۔
خاصیت: اگر کوئی شخص اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھتا ہے تو اس کو بھی جو دشواری پیش آئے گی حل ہوجائے گی اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ جو عورت ایام حمل میں یہ اسم پاک پڑھتی رہا کرے تو وہ حمل کی تمام تکلیفوں اور پریشانیوں سے نجات پائے گی۔
79" البر" انتہائی احسان کرنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنے ماں باپ ، استاد بزرگان دین، عزیز واقارب ور تمام لواحقین ومتعلقین کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرے۔
خاصیت: طوفان بادوباراں اور کسی آفت کے وقت یہ اسم پاک پڑھنا چاہئے انشاء اللہ کوئی نقصان وگزند نہیں پہنچے گا۔ اگر اس اسم پاک کو سات مرتبہ پڑھ تعالیٰ کی امان میں دے دیا جائے تو وہ بچہ بالغ ہونے تک ہر آفت وبلا اور ہر تکلیف ومصیبت سے محفوظ رہے گا۔ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخس شراب نوشی اور زنامیں مبتلا ہو تو وہ ہرروز سات متبہ یہ اسم پاک پڑھ لیا کرے حق تعالیٰ اس کے دل کو ان معصیتوں سے پھیر دے گا۔
Back to top Go down
shazia_rafiqi
Senior Member
Senior Member
avatar

Posts : 272
Points - امتياز : 599
Thanked - ووټ : 11
Join date : 2010-01-24

PostSubject: Re: 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)   Wed Jul 21, 2010 12:55 am


80" التواب" توبہ قبول کرنے والا۔ توبہ کے اصل معنی ہیں، رجوع کرنا یعنی پھرنا جب اس لفظ کی نسبت بندہ کی طرف ہوتی ہے تو اس سے مراد ہوتا ہے کہ گناہ سے پھرنا ، یعنی پانے گناہ پر نادم ، وشرمندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا۔ اور جب حق تعالیٰ کی طرف نسبت ہوتی ہے تو اس لفظ کی مراد ہوتی ہے، رحمت وتوفیق کے ساتھ پھرنا یعنی بندہ کی طرف نظر رحمت وتوفیق متوجہ ہونا۔ اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر سمجھئے کہ جب کوئی بندہ گناہ میں مبتلا ہوتا ہے تو حق تعالیٰ اس کی توبہ کے اسباب میسر کرتا ہے اس کو توبہ کی توفیق دیتا ہے اور اس کو گناہوں کے عواقب سے ڈرا کر ، عذاب کا خوف دلا کر اور آخرت کی سزا کا احساس بخش کر اسے خواب غفلت سے بیدار کرتا ہے اور اس کے قلب وشعور میں اپنے جرم کا احساس اور گناہ پر ندامت وشرمندگی کی توفیق عطا فرماتا ہے اس کے بعد وہ بندہ توبہ وندامت کے ساتھ حق تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور پھر حق تعالیٰ اپنے فضل اور اپنی رحمت کے ساتھ اس بندہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے یعنی اسے بخش دیتا ہے، لہٰذ احقیقت میں حق تعالیٰ کی توبہ یعنی اس کی توجہ بندہ کی توبہ یعنی اس کے رجوع پر مقدم ہوتی ہے اگر حق تعالیٰ کی توجہ نہ ہو تو بندہ کو رجوع کی نوبت نہیں آسکتی۔ اس لئے فرماگیا ہے کہ تاب علیہم لیتوبوا اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہوا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ (یعنی توبہ کریں)۔
توبہ کنم بشکنم توبہ دہی نشکنم
اس لئے بدہ کو چاہئے کہ وہ میشہ حق تعالیٰ کی رحمت کا امیعوار رہے قبولیت توبہ کا یقین رکھے، ناامیدی کے دروازہ کو بند کردے۔ بایں طور اس کی رحمت کے نزول سے ناامید نہ ہو دوسروں کی خطائی معاف کرے معذت خواہ کی معذرت قبول کرے چاہے کتنی بار معذرت قبول کرنی پڑے۔ اور اگر کسی سے کوئی قصور وکوتاہی ہوجائے تو نہ سرف یہ کہ اس سے درگزر کرے بلکہ انعام واکرام کے ساتھ اس کی طرف توجہ ہو ۔ جناب باری تعالیٰ سے توبہ طلب کرے، گناہوں پر شرمندہ ونادم ہوگوش عبرکھلے رکھے اور توبہ میں تاخیر نہ کرے تاکہ اس حکم عجلوا بالتوبۃ قبل الموت (مرنے سے پہلے توبہ میں جلدی کرو) کی بجا آوری ہو۔
اس موقع پر ایک عبرت انگیز اور سق آموز حکایت سن لیجئے۔ کہتے ہیں کہ کس سلطنت کا ایک وزیر تھا جس نام عیسی ابن عیسی تھا ایک دن وہ سواروں کی ایک جماعت کے ہمراہ چلا جارہا تھا جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے لوگ آپس میں پوچھتے تھے کہ یہ کون ہے یہ کون ہے، راستہ میں کہیں ایک بڑھیا بھی بیٹھی ہوئی تھی اس نے جو لوگوں کو پوچھتے سنا تو کہنے لگی کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہے۔ہوتا کون! یہ ایک بندہ ہے جو نظر حق عنایت سے گرا ہوا ہے اور اس حالت میں مبتلا ہے (یعنی دنیاوی جاہ وجلال میں اس طرح مگن اور مطمئن ہے) عیسی بن عیسی نے یہ بات سن لی ۔ بس پھر کیا تھا فورا اپنے مکان کو لوٹا وزارت پر لات ماری اور توبہ کی دولت سے مشرف ہوا اس طرح وہ تمام دنیاوی جاہ حشم کو پس پشت ڈال کر مکہ مکرمہ میں مقیم ہوا اور وہیں مجاور ہوگیا۔
خاسیت: اگر کوئی شخص نماز چاشت کے بعد اس اسم پاک کو تین سو ساٹھ مرتبہ پڑھے تو حق تعایٰ اسے توبہ نصوح ایسی پختہ توبہ کہ اس کے بعد گناہ سرزد نہ ہو، کی سعادت سے سے نوازے گا اور اگر کوئی شخص اس اسم پاک کو بہت زیادہ پڑھتا رہے تو اس کے تمام مور انجام وصلاح پذیر ہوتے رہیں گے اور نفس کو طاعت عبادت کے بغیر سکون وقرار نہیں ملے گا اور جو شخص نماز چاشت کے بعد یہ پڑھا کرے ۔ اللہم اغفر لی وت علی انک انت التواب الرحیم تو انشاء اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔
81" المنتقم" کافروں اور سرکشوں سے عذاب کے ذریعہ بدلہ لینے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنے بڑے دشمنوں سے کہ وہ نفس اور شیطان ہیں بدلہ لیتا رہے اور سب سے بڑا دشمن نفس امارہ ہے اس کی سزا یہ ہے کہ وہ جب بھی کسی گناہ میں مبتلا ہو یا عبادت میں کوتا ہی کرتے تو اس سے انتقام لے باں طور کہ اسے عقوبت وسختی میں مبتلا کرے۔ چنانچہ حضرت بایزید بسطامی کے بارہ میں منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا۔ راتوں میں ارادوظائف میں مشغول رہا کرتا تھا کہ ایک رات میرے نفس نے تکاسل کیا اس کی سزا میں اس کو یہ دی کہ ایک برس تک اپنے نفس کو پانی سے محروم رکھا۔
خاصیت: جو شخص اپنے دشمن کے ظلم وجور پر صبر اور اس کا دفاع نہ کرسکے وہ تین جمعوں تک اس اسم پاک کو پابندی سے پڑھتا رہے اس کا دشمن دوست ہوجائے گا اور اس کے طلم سے نجات مل جائے گی۔ نیز اگر کسی بھی مقصد کے حصول کےئے اس مقصد کی نیت کے ساتھ اس اسم پاک کو آدھی رات کے وقت پڑھا جائے تو وہ مقصد حاصل ہوگا۔
ایک دسری روایت میں حضرت ابوہریرہ کے علاوہ ایک اور صحابی سے منقول ہے اس موقع پر باری تعالیٰ کا ایک اسم المنعم بھی نقل کیا گیا ہے جو اس اسم پاک المنعم پر مداومت کرے کبھی کسی کا محتاج نہ ہوگا۔
82" العفو" گناہوں اور تقصیرات سے درگزر کرنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب وہی ہے جو الغفور کے ضمن میں نقل کیا گیا حضرت شیخ عبدالحق شرح اسماء حسنی میں لکھتے ہیں کہ العفو جس کے معنی ہیں سیأات کو محو کرنے والا اور گناہوں کو معاف کرنے والا۔ اگرچہ معنی ومفہوم کے اعتبار سے غفور کے قریب ہے لیکن عفو، غفور سے زیاہ بلیغ ہے کیونکہ غفران کے معنی ہیں ستر وکتمان، اس لئے غفار کے معنی ہوں گے گناہوں کو چھپانے والا جب کہ عفو مشعر بمحو ومعدوم کردینے کے ہے جس کا مطلب ہے گناہو کو معاف کرکے ختم ومعدوم کردینے والا۔
لہٰذا بندہ کتنا ہی گنہ گار کیوں نہ اللہ تعالیٰ کی شان عفو کے پیش نظر اس کی طرف سے معافی وبخشش کا پوری طرح امیدوار ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کسی بھی گنہ گار کے ساتھ تحقیر وتذلیل کا برتاؤ نہ کیا جائے کیونکہ یہ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے حدود شرع اور احکام دین کی پابندی کی بنا پر بخشش دے اور اس کے گناہوں کو یکسر محو کردے۔
رد مکن بدرا، چہ دانی درازل نام و درنامہ نیکاں بود
ورود وبر جائے نیکاایں گمان بر تو روز جاز تاواں بود
اس اسم پاک کا بندہ پر تقاضہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی تقصیرات اور ان کی خطاؤں سے چشم پوشی کر کر کے انہیں معاف کردے تاکہ الکاظمین الغیظ والعافین عن الناس۔ (غصہ کو نگل جانے والوں اور لوگوں کو معاف کرنے والوں ) کے زمرہ میں داخل ہو۔
خاصیت: جو شخص زیادہ گنہگار ہو اسے چاہئے کہ وہ اس اسم پاک کو اپنا ورد قرار دے لے انشاء اللہ اس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔
83" الرؤوف" بہت مہربان ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب وہی ہے جو اسم پاک الرحیم کے ضمن میں ذکر کیا گیا ہے ۔
منقول ہے کہ ایک شخص کا ہمسایہ بہت برا تھا جب اس کا انتقال ہوتو اس شخص نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی بعد میں اس کو کسی اور شخص نے خواب میں دیکھا تو اس سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیسا سلوک کیا؟ اس شخص نے کہا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے بخش دیا ہے لیکن وہ ذرا ان صاحب سے جنہوں نے نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی یہ ضرور کہہ دینا کہ لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی اذا لامسکتم خشیۃ الانفاق ۔ (اگر میررب کی رحمتوں کے خزانے تمہاری ملکیت میں ہوتے تو تم انہیں خرچ ہوجانے کے خوف سے ضرور دبا کر بیٹھ جاتے ) یہ گویا اس نے نماز جنازہ نہ پڑھنے والے پر طعن کیا کہ مری راب تو بہت مہربان ہے اس نے مجھے بخش دیا ہے اگر کہیں تمہارا بس چل جاتا تو نہ معلوم تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے۔
خاصیت: اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ کسی مظلوم کوظالم کے ہاتھوں سے بچالے تو وہ اس اسم اعظم کو دس بار پڑھے ظالم اس کی سفارش قبول کرے گا اور اپنے ظلم سے باز آجائے گا۔ اگر کوئی شخص اس اسم پاک پر مداومت کرے تو اس کا دل نرم رہے گا۔ وہ سب کو دوست رکھے اور سب اسے دوست رکھیں گے۔
84" مالک الملک" سارے جہان کا مالک
اس اسم سے بندہ کا نصیب وہی ہے جو اسم پاک الملک کے ضمن بہت گزرچکا ہے ۔ شاذلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے شخص ایک دروازہ پر ٹھہر یعنی صرف اللہ کے دروازہ پر آ، تاکہ تیرے لئے بہت سے دروازے کھولے جائیں اور صرف ایک بادشاہ یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی گردن جھکا تاکہ تیرے سامنے بہت سی گردنیں جھکیں ارشاد ربانی ہے وان من شیء الا عندنا خزائنہ۔ (ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس کے خزانے نہ ہوں ہمارے پاس)
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک پر مداومت اختیار کرے تونگر ہو اور اس کے دنیا وآخرت کے تمام امور اور تمام مقاصد نیک ثمرہ وانجام پذیر ہوں اس کے بعد ذکر کئے جانے والے اسم پاک " ذوالجلال والاکرم کی بھی یہی خاصیت ہے۔
85" ذولجلال والاکرام ۔ بزرگی اور بخشش کا مالک۔ جس نے خدا کا اجلال جانا تو اس کی بارگاہ میں تذلل اختیار کرے اور جس نے اس کا اکرام دیکھاتو اس کا شکر گزر ہو پس نہ تو غیر اللہ کی اطاعت فرمانبردار کی جائے نہ خدا کے علاوہ کسی اور سے اپنی حاجت بیان کی جائے۔
اس اسم بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنے نفس کے لے بزرگی کے حصول کی کوشش کرے اور بندگان خدا سے اچھا سلوک کرے۔
86" المقسط" عدل کرنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب وہی ہے جو اسم پاک العدل کے ضمن میں بیان کیا گیا ہے
خاصیت: جو شخ اس اسم پاک کو سو بار پڑھے وہ شیطان کے شر اور اس کے وسوسوں سے محفوظ رہے گا اور اگر سات سو بار پڑھے تو اس کا جو بھی مقصد ہوگا حاصل ہوگا۔
87" الجامع" قیامت میں لوگوں کو جمع کرنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ علم وعمل اور کمالات نفسانیہ وجسمانیہ کا جامع بنے اور خدا کی ذات میں محویت استغراق اور غوروفکر، ذکر اللہ کے ذریعہ تسکین قلب وخاطر جمع، ذات وصفات باری تعالیٰ کا عرفان جیسی صفات حمیدہ کی سعادتیں اپنے اندر جمع کرے۔
درجمعیت کوش تاہم زات شوی ترسم کہ پراگندہ شوی مات شوی
خاصیت: جس شخص کے عزیز واقارب اور اہل خانہ منتشر اور تتربتر ہوں وہ چاشت کے وقت غسل کرے اور آسمان کی طرف منہ اٹھا کر اس اسم پاک کو دس مرتبہ اس طرھ پڑھے کہ ہر مرتبہ ایک انگلی بند کرتا جائے اور اپھر اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھ منہ پر پھیرے انشاء اللہ تھوڑے ہی عرصہ میں وہ سب جمع ویکجا ہوجائیں گے۔
88'الغنی" ہر چیز سے بے پرو۔
خاصیت : جو شخص حرص وطمع کی بلا میں مبتلا ہو وہ اپنے جسم کے ہر عضو پر ہاتھ رکھ کر اسم پاک الغنی پڑھے اور ہاتھ کو اس عضو کے اوپر نیچے کی طرف لائے حق تعالیٰ اسے اس بلا سے نجات دے گا۔ اور جو شخص یہ اسم پاک ہر روز ستر بار پڑھے اس کے مال میں برکت ہوگی اور وہ کبھی محتاج نہ ہوگا۔
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 816 مکررات 0
89 " المغنی" جس کو چاہے بے پروا کرنے والا۔
ان ناموں سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ ماسواللہ سے مکمل استغناء اور بے پرواہی برتے اور خدا کے علاوہ کسی کو حاجت روا قرار نہ دے۔
خاصیت: جو شخص مسلسل دس جمعہ تک اس اسم پاک کو پڑھنے میں باقاعدگی اختیار کرے بایں طور کہ ہر جمعہ کے روز ایک ہزار بار پڑھے تو مخلوق سے بے پروا ہوجائے گا۔
90" المانع" اپنے بندوں کو دین ودنیا کی ہلاکت ونقصان سے باز رکھنے والا۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ اپنے نفس اور اپنی طبیعت کو خواہشات نفسانی سے باز رکھ کر اپنے آپ کو دینی ودنیاوی ہلاکت ونقصان سے محفوظ رکھے۔
خاصیت: اگر شوہر بیوی کے درمیان ناچاقی ہو تو بستر پر جاتے وقت اس اسم پاک کو بیس بار پڑھ لیا جائے تاکہ حق تعالیٰ غصہ وناچاقی کی بدمزگی سے بچائے گا۔
حضرت شیخ عبدالحق محدیث دہلوی نے شرح اسماء حسنی میں اس پاک المانع سے پہلے اس پاک المعطی بھی نقل کیا ہے اور انہوں نے ان دونوں ناموں کی ترجمانی کی وضاحت یوں کی ہے کہ وہ جس کو جو کچھ چاہے دے اور جو چاہے نہ دے۔ لامانع لما اعطی ولا معطی لما منع (جان لو جس کو وہ دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ور جس کو نہ دے اس کو کوئی دینے والا نہیں) لہٰذا جب بندہ نے جان لیا کہ حق تعالیٰ ہی معطی دینے والا اور مانع نہ دینے والا ہے تو اس کی عطا کا امیدوار اور اس کے منع سے خائف رہے! بندہ پر اس اسم کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ خدا کے نیک بندوں اور مستحقین کو اپنے عطا سے نوازے اور فاسقوں ظالموں کو عطا کرنے سے باز رہے یا یہ کہ اپنے قلب وروح کو حضور طاعت کے انوار عطا کرے اور اپنے نفس وطبیعت کو خواہشات و ہوس سے باز رکھے! حضرت ابوہریرہ کی روایت میں جو یہاں ذکر کی گئی ہے المعطی کا ذکر نہیں ہے ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ کی اس روایت کے پیش نظر منع کی وضاحت ردوہلاک کی جاتی ہے۔
اس کے بعد حضرت شیخ اس پاک المعطی کی خاصیت یہ لکھتے ہیں کہ جو شخص المعطی کو اپنا ورد بنالے اور یا معطی السائلین بہت پڑھتا رہا کرتے تو کسی سے سوال کا محتاج نہیں ہوگا۔
91" الضار ۔
92 النافع" جس کو چاہے ضضر پہنچانے والا اور جس کو چاہے نفع پہنچانے والا۔ قشیری کہتے ہیں کہ ان اسماء میں اس طرف اشارہ ہے کہ ضضرونفع اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر سے ہے لہٰذا جو شخص اس کے حکم یعنی اس کی قضا وقدر کا تابعدار ہوو راحت وسکون کی زندگی پائے گا اور جو شخص اس کا تابعدار نہ ہو وہ آفت ومصیب میں پڑے گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ من استسلم لقضائی وصبر علی بلائی وشکر علی نعمائی کان عبدی حقا ومن لم یستسلم لقضائی ولم یصبر علی بلائی ولم یشکر علی نعمائی فلیطلب ربا سوائی۔ جس شخص نے میری قجا وقدر کو تولیم کیا میری بلا پر صبر کیا ور میری نعمتوں پر شکر کیا وہ میراسچا بندہ ہے اور جس شخص نے میری قضا وقدر کو تسلیم نہ کیا۔ میری بلاء پر صبر نہ کای اور میری نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا تو وہ میرے علاوہ کوئی اور راب ڈھونڈ لے۔
حضرت شیخ نے شرح اسماء حسنی میں ان دونوں اسماء الضار اور النافع کی وضاحت کے سلسلے میں یہ لکھا ہے کہ خیر وشر اور نفع وضرر کا صرف اللہ تعالیٰ مالک ہے اور گرمی سردی خشکی اور تری میں دردوتکلیف، رنج وپریشانی اور شفا کا پیدا کرنے والا وہی ہے۔ یہ قطعا گمان نہ کیا جائے کہ دو ابذات خود فائدہ دیتی ہے زہر بذات خود ہلاک کرتا ہے کھانابذات خود سیر کرتا ہے اور پانی بذات خود سیراب کرتا ہے بلکہ یہ تمام اسباب عادی ہیں بایں معنی ٰ کہ یہ عادت قائم کہ حق تعالیٰ نے ان کو اسباب بنا دیا ہے کہ مذکورہ بالا چیزیں ان کے واسطہ سے پیدا کرتا ہے اگر وہ چاہے تو ان چیزوں کو ان واسطوں اور اسباب کے بغیر بھی پیدا کرسکتا ہے اور اگ چاہے تو ان کے باوجود بھی ان چیزوں کو پیدا نہ ہونے دے۔ اسی طرح عالم علویات وسفلیات کی تمام چیزیں اور تمام اجزا محض واسطے اور اس باب کے درجہ میں ہوتی ہیں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے زیر اثر ہیں اور ان تمام کی حیثیت بہ نسبت قردرت ازلیہ وہی ہے جو لکھنے والے کے ہاتھ میں قلم کی وہتی ہے لہٰذا بندہ کو چاہئے کہ تمام نقصانات اور تمام فائدہ کو حق تعالیٰ کے فیصلے جانے، عالم اسباب کو اس قدرت کے زیر اثر سمجھے اور حکم وقضا الٰہی کا تابعدار ہوا کر اپنے تمام امور اسی کے سپرد کرے تاکہ وہ ایک ایسی زندگی کا حامل بن جائے جو مخلوق سے محفوظ اور مطمئن ہو۔
منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ نے دانتوں کے درد سے پریشان ہو کر بارگارہ حق میں فریاد کی تو وہاں سے حکم ہوا کہ فلاں گھاس دانتوں پر ملو تاکہ آرام ہو حضرت موسیٰ نے وہ گھاس دانتوں پر ملی تو آرام ہوگیا۔ ایک مدت کے بعد پھر ایک دانت میں درد ہوا تو انہوں نے وہی گھاس استعمال کی، اس مرتبہ درد کم تو کیا ہوتا اور بڑھ گیا بارگاہ حق میں عرض رساں ہوئے۔ الہٰ العالمین! یہ تو وہی گھاس ہے جس کو استعمال کرنے آپ نے حکم فرمایا تھا مگر اب اس کے استعمال سے درد اور بڑھ گیا ہے! بارگاہ حق سے عتاب کے ساتھ یہ ارشاد ہوا کہ اس مرتبہ تم نے ہماری طرف توجہ کی تھی تو ہم نے شفا دی اور اس مرتبہ تم نے گھاس کی طرف توجہ کی اس لئے ہم نے درد میں اضافہ کردیا تاکہ تم یہ جان لوکہ شفا دینے تو ہم ہی ہیں نہ کہ گھاس۔
بندہ پر ان اسماء کا تقاضہ یہ ہے کہا مر الٰہی اور اھکم شریعت کے ذریعہ دشمنان دین کو ضرر پہنچائے اور انہیں متنبہ کرے اور بندگان خدا کو نفع پہنچائے اور ان کی مدد کرتا رہے۔
خاصیت: اگر کسی شخص کو کوئی حال اور مقام میسرہو تو وہ اسم پاک الضار کو جمعہ کی راتوں میں سو بارپڑھا کرے حق تعالیٰ اسے اس مقام پر استقامت عطا فرمائے گا اور وہ مرتبہ اہل قرب کو پہنچے گا۔ اگر کوئی شخس کشتی یا پانی کے جہاز میں سفر کرے تو وہ روزانہ اسم پاک النافع کو اکتالیس بار پڑھے انشاء اللہ اسے کوئی نقصان نہٰں پہنچے گا اور اپنے ہر کام کی ابتداء میں النافع اکتالیس بار پڑھ لیا کرے تو اس کے تمام کام حسب خواہش انجام پذیر ہوں گے۔
93" النور" آسمان کو ستاروں کے ساتھ، زمین کو انبیاء وعلماء وغیرہ کے ذریعہ اور مسلمانوں کے قلوب کو نور معرفت وطاعت کے ذریعہ روشن کرنے والا۔ اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ ایمان وعرفان کے نور سے اپنی ذات کو روشن ومنور کرے۔
خاصیت: جو شخص جمعہ کی شب میں سورہ نورساتھ مرتبہ اور یہ اسم پاک ایک ہزارایک مرتبہ پڑھے حق تعالیٰ اس کے دل میں نورانیت پیدا فرمادے گا اور جو شخص روزانہ صبح اس اسم پاک کو پڑھنے کا التزار رکھے تو اس کا دل منور ہوگا۔
94" الہادی" راہ دکھانے ۔
اس اسم سے بندہ کا نصیب یہ ہے کہ وہ بندگان خدا کو خدا کی راہ دکھائے۔ اس بات کو حضرت شیخ نے شرح اسماء حسنی میں وضاحت کے ساتھ یوں بیان کیا ہے۔ کہ ہدایت کا مطلب ہے راہ دکھانا اور منزل مقصود تک پہنچانا ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ تمام راوہ رووں کا رہنام ہے۔ اگر کوئی دنیا کی راہ پر ہوتا ہے تب بھی تاہنما ہے اور اگر کوئی آخرت کی راہ پر چلتا ہے ترو بھی راہبر اسی کی ذات ہوتی ہے۔
گر نہ چراغ لطف تو راہ نماید از کرم قافلہائے شب روں پے نبرد بمنزلے
حاصل یہ ہے کہ حق تعالی انواع ہدایت کی کوئی حد وشمار نہیں ہے۔ الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ہدا۔ (وہ ایسی ذات ہے جس نے ہر چیز کو وجود بخشا اور پھر اس کی راہ بتائی) چنانچہ یہ حق تعالیٰ ہی ہے جو بچہ کو پیٹ سے باہر آتے ہی ماں کی چھاتیوں سے دودھ پینے کی راہ بتاتا ہے۔ چوزہ کو انڈے سے نکلتے ہی دانہ چننے کی راہ پر لگاتا ہے اور شہد کی مکھی کو کیا عجیب وغریب گھر بنانے کی راہ دکھاتا ہے، حاصل یہ ہے کہ کائنات کا ایک ایاک فرد اپنے ایک ایک لمحہ اور اپنے ایک ایک فعل میں اسی کی ہدایت ورہنمائی کامرہون منت ہوتا ہے۔
لیکن سب سے افضل اور سب سے عظیم الشان ہدایت وہ راستہ دکھانا ہے جو بارگاہ حق جل مجدہ تک اور دیدار باری تعالیٰ کی نعمت عظمی تک پہچاتا ہے اور خواص کے باطن میں توفیق الٰہی اور اسرار تحقیق کا وہ نور پیدا کرتا ہے جو ہدایت معرفت اور طاعت کا سبب بنتا ہے۔
بندوں میں اس اسم پاک الہادی سے سب سے زیادہ بہرہ مند انبیاء اولیاء اور علماء ہیں جو مخلوق خد اکو صرط مستقیم کی طرف راہ دکھانے والے ہیں۔ سید انبیاء اور ختم رسل دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی اس اسم پاک کی حقیقی پرتو ہے جو اس دنیا میں پوری انسانیت اور پوری کائنات کے سب سے بڑے اور سب سے بلند مرتبہ راہنما اور راہبر ہیں۔ اہدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولاالضالین ۔
حضرت ذوالنون مصری فرماتے ہیں کہ تین چیزویں ایسی ہیں جن کا عارفین کی صفات عالیہ میں شمار ہوتا ہے (١) تنگدل اور غمزدوں کو کشادگی اور فرحت کی طرف لانا۔ (٢) غافلین کو حق تعالیٰ کی نعمتیں یا دلانا۔ (٣) زبان توحید سے مسلمانوں کو حق کی راہ دکھانا یعنی ان کے قلوب کی توجہ دنیا سے دین کی طرف اور معاش سے معاد کی طرف پھیرنا۔
خاصیت: جو شخص ہاتھ اٹھا کر اور اپنامنہ آسمان کی طرف اٹھا کر اس اسم پاک الہادی کو بہت زیادہ پڑھا کرے اور پھر ہاتھوں کو آنکھوں اور منہ پر پھیر لیا کرتے تو حق تعالیٰ اسے اہل معرفت کا مرتبہ بخشے گا۔
95" البدیع" عالم کو بغیر مثال کے پیدا کرنے والا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جو شخص قول وفعل میں اپنے نفس پر سنت کو امیر (حاکم) بناتا ہے وہ حکمت کی باتیں کرتا ہے یعنی اس کا ذہن اس کا فکر اس کی زبان حکمت وشریعت ہی کے ڈھانچے میں ڈھل اجتی ہے اور جو شخص قول وفعل میں اپنے نفس پر خواہش کو امیر بناتا ہے وہ بدعت ہی کی باتیں کرتا ہے۔ اس کا ذہن اس کا فکر اور اس کی زبان بدعت ہی کے چکر میں پڑی رہتی ہے۔
قشیری فرماتے ہیں کہ ہمارے مسلک کے تین اصول ہیں (١) اخلاق وافعال میں اور کھانے پینے کہ وہ حلال ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنا۔ (٢) ہمیشہ سچ بولنا۔ (٣) تمام اعمال میں نیت کو خالص کرنا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ جو شخص بدعتی کے بارہ میں مداہنت کرتا ہے یعنی اس سے نرمی برتتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال سے سنت کی حلاوت اٹھا لیتا ہے اور جو شخص بدعتی کو دیکھ ہنستا یعنی بدعتی کے ساتھ احترام کا معاملہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل سے ایمان کا نور سلب کرلیتا ہے۔
خاصیت: جس شخص پر کوئی غم پڑےھ یا کوئی دشوار کام پیش آئے تو وہ یابدیع السماوات والارض ستر ہزار بار اور ایک قول کے مطابق ایک ہزار بار پڑھے انشاء اللہ وہ غم دور ہوجائے گا اور اس کا کام پورا ہوگا اور اگر کوئی شخص باوضو ہو کر قبلہ کی طرف منہ کر کے یہ اتنا پڑھے کہ سواجئے تو وہ خواب میں جس چیز کے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوگا دیکھ لے گا۔
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 817 مکررات 0
96 " الباقی" ہمیشہ باقی رہنے والا
خاصیت: جو شخص اس اسم پاک کو جمعہ کی شب میں سو بار پڑھ لیا کرے اس کے تمام اعمال قبول ہوں گے اور کوئی رنج وغم اسے نہ ستائے گا۔
97" الوارث" موجودات کے فنا ہوجانے بعد باقی رہنے والا اور تمام مخلوقات کا مالک جیسا کہ بتایاگیا۔ وارث سے مراد ہے موجودات کے فنا ہوجانے کے بعد باقی تمام املاک اپنے مالکوں کے فنا ہوجانے کے بعد اس کی طرف رجوع کریں گی، لیکن یہ مطلب وارث کے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے ہے ورنہ تو حقیقت میں کائنات کی ایک ایک چیز کا علی الاطلاق ازل سے ابد تک ملکیت میں بغیر کسی تبدل وتغیر کے وہی مالک ہے ۔ تمام ملک وملکوت بالشرکت غیرے اسی کے لئے ہیں اور وہی سب کا حقیق مالک ہے چنانچہ ارباب بصائر ہمیشہ یہ نداء لمن الملک الیوم للہ الواحد القہار (گوش ہوش سے سنتے ہیں)
لہٰذ ابندہ کو چاہئے کہ وہ اپنے مال ومیراث کے فکر میں نہ رہے بلکہ یہ جانے کہ یہ سب کچھ چھوڑ کر دنیا سے جانا ہے اسی لئے کہا جاتا کہ موتو ا قبل ان تموتوا عارفوں کا شعار ہے
دل بریں منزل فانی چہ نہی رخت بہ بنمد
بندہ پر اس اس پاک کا تقاضہ یہ ہے کہ وہ ان اعمال میں اپنی زندگی صرف کرے جو باقیات صالحات میں سے ہیں جیسے تعلیم وتعلم اور صدقہ جاریہ وغیرہ۔ نیز دین کے علوم معارف کو پوری سعی وکوشش کے ساتھ زیادہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرے۔ تاکہ صحیح معنی میں انبیاء کا وارث قرار پائے۔
خاصیت: جو شخص طلوع آفتاب کے وقت اس اسم پاک کو سو بار پڑھا کرے اس کو کوئی رنج وغم نہیں پہنچے گا اور جو شخص اس اسم کو بہت زیادہ پڑھتا رہے اس کے تمام کام بحسن وخوبی انجام پذیر ہوںگے۔
98" الرشید" عالم کا رہنما " بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اپنے بندہ کو اللہ کا راہ دکھانا یہ ہے اور وہ اس کے نفس کو اپنی طاعت وعباد تکی راہ دکھاتا ہے اس کے قلب کو اپنی مغفرت کی راہ دکھاتا ہے اور اس کی روح کو اپنی محبت کی راہ دکھاتا ہے اور جس بندہ کا نفس سنوارنے کے لئے حق تعالیٰ اس کو راہ دکھاتا ہے اس کی علامت یہ ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام امور میں توکل وتفویض الہام فرماتا ہے۔
منقول ہے کہ ایک دن حضرت ابراہیم بن ادہم کو بھوک لگی تو انہوں نے ایک شخص کو ایک چیز دی جو ان کے پاس موجود تھی اور اس سے کہا کہ اس کو گروی رکھ کر کھانے کا انتظام کرو، جب وہ شخص وہ چیز لے کر وہاں سے نکلا تو اچاند اس کو ایک اور شخص ملا جو ایک خچر کے ساتھ چلا آرہا تھا اس خچر پر چالیس ہزار دینار لدے ہوئے تھے اس نے اس شخص سے حضرت ابراہیم بن ادہم کے بارہ میں پوچھا ور کہا کہ یہ چالیس ہزار دینار ابراہیم کی مریا ث ہیں جو ان تک ان کے والد کے مال سے پہنچی ہے میں ان کا غلام ہوں میراث کا یہ مال میں ان کی خدمت میں لایا ہوں۔ اس کے بعد وہ شخص حضرت ابراہیم کے پاس پہنچا اور چالیس ہزار دینار ان کے حوالہ کئے۔ حضرت ابراہیم نے کہا کہ اگر تم سچ کہتے ہو کہ تم میرے غلام ہو اور یہ مال بھی میرا ہی ہے تو میں تمہیں اللہ کی خوشنودی کے لئے آزاد کرتا ہوں اور یہ چالیس ہزار دینا بھی میں تمہیں بخشتا ہوں۔ بس اب تم میرے پاس سے چلے جاؤ جب وہ شخص وہان سے چلا گیا تو ابراہیم نے کہا کہ پروردگار میں نے تو تیرے سامنے صرف روٹی کی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ تو نے مجھے انتی مقدار میں دنیا دے دی پس قسم تیی ذات کی اب اگر مجھے بھوک سے مار بھی ڈالے گا تو تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا۔
خاصیت: اگر کوئی شخص اپنے کسی کام کے بارہ میں کچھ طے نہ کر پارہا ہوتو وہ عشاء کی نماز اور اپنے سونے کے درمیان اس اس پاک کو ایک ہزار متبہ پڑھے گا اس کام کے بارہ میں جو صحیح اور مفید بات ہوگی اس پر ظاہر ہوجائے گی اور جو شخص اس اسم پاک پر مداومت کرے اس کے تمام امور بغیر سعی وکوشش کے انجام پذیر ہوںگے۔
99" الصبور" برد بار کہ گناہ گاروں کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا۔ لغت میں صبر کے معنی ہیں شکیبائی کرنا اور صبور وہ کہ گنہگارون کو پکڑنے اور ان کو سزا دینے میں جلدی نہ کرے۔ صبور معنی ومفہوم کے اعتبار سے حلیم کے قریب ہے لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ صبور اس بات پر مشعر ہے کہ اگرچہ فی الوقت بردباری کی لیکن آخرت میں پکڑے گا اور عذاب دے گا جب کہ حلیم بردباری کے مفہوم میں مطلق ہے ۔ بعض حضرا تکہتے ہیں کہ صبور کے معنی بندہ کو اس کی مصیبت وبلاء میں صبر دینے والا لہٰذا مبارک امانت کے تحمل پر صبر دینے والا، شہوات وخاہش کی مخالفت پر صبر دینے والا اور اداء عبادت میں مشقت پر صبر دینے والا وہی حق سبحانہ وتعالیٰ ہے اس لئے بندہ کو چاہئے کہ وہ ہر مصیب ورنج وآفت وبلاء میں خدا سے صبر چاہے اور اس کی نافرمانی سے دور رہے۔ نیز اس اسم پاک کبندہ پر یہ تقاضہ ہے کہ وہ کسی کام میں سبکی اور جلدی نہ کرے بلکہ وقار وطمانیت اور تمکین اختیار کرے اور ہر رنج میں اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ طلب کرے۔ ربنا افرغ علیناصبرا وثبت اقدامناوانصرنا علی القوم الکافرین یا ایہا الذین امنو اصبرو وصابر وارابطو واتقواللہ لعلکم تفلحون۔
مشائخ میں سے ایک شخص کا یہ مقولہ کتنا ہی عارفانہ ہے ۔ جام صبر پیو اگرمارے جاؤگے شہید اور اگر زندہ رہو گے تو سعید کہلاؤگے۔
خاصیت: جس شخص کو رنج ومشقت ، درد وتکلیف اور کوئی مصیب پیش آئے تو یہ اسم تینتیس بار پڑھے اطمینا باطن پائے گا۔ دشمنوں کی بان بندی وپسپائی حکام کی خوشنودی اور لوگوں کے دلوں میں مقبولیت کے لئے آدھی رات کے وقت یا دوپہر میں اس اسم پاک کو باقاعدگی کے ساتھ پڑھنا بڑی خاصیت اور تاثیر رکھتا ہے۔
مشکوۃ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت میں حق تعالیٰ کے جو ننانوے نام منقول ہیں ان کی وضاحت ختم ہوئی ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ قرآن کریم اور احادیث میں ان ناموں کے علاوہ کچھ اور نام بھی منقول ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم میں یہ نام بھی آتے ہیں۔
الرب۔ الاکرم۔ الاعلیٰ۔ الحافظ۔ الخالق۔ السائر۔ الستار۔ الشاکر العاد۔ العلام۔ الغالب۔ الناظر۔ الفالق۔ القدیر۔ القریب۔ القاہر الکفیل ۔ الکافی۔ المنیر۔ المحیط۔ الملک المولی۔ النصیر۔ اھکم الحاکمی۔ ارحم الراحمین۔ احسن الخالقین۔ ذوالفضل۔ ذوالطول۔ ذوالقوۃ۔ ذوالمعارج۔ ذوالعرش ۔ رفیع الدرجات۔ قابل التوب۔ الفعال لمایرید۔ مخرج الحی من المیت اور احادیث میں یہ نام بھی آئے ہیں۔ الحنان، المنان، المغیث نیز ان کے علاوہ دیگر آسمانی کتب مثلا توریت وغیرہ سے اللہ تعالیٰ کے کچھ اور نام نقل کئے جاتے ہیں۔
مشکوۃ شریف:جلد دوم:حدیث نمبر 818 مکررات 0
حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا کہ اے الٰہی میں تجھ سے اپنا مقصود ومطلوب اس وسیلہ کے ساتھ مانگتا ہوں کہ تو اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہٰں تو ایسا یکتا اور بے نیاز ہے کہ نہ تو اس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنا اور اس کو کائی ہمسر نہیں (یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ سے اسم اعظم کے ساتھ دعا مانگی، ایسا اسم اعظم کہ جب اللہ تعالیٰ سے اس کے ذریعہ سوال کیا جتا ہے تو وہ سال پورا کرتا ہے اور جب اس کے ذریعہ دعا مانگی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قبول کرتا ہے یعنی وہ دعا اکثر قبول ہوتی ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد )
تشریح: زیادہ صحیح بات تو یہی ہے کہ اسم اعظم اللہ کے اسماء میں پوشیدہ ہے تعین کے ساتھ اس کا کسی کو علم نہیں ہے جیسا کہ لیلۃ القدر لیکن جمہور علماء کہتے ہیں کہ اسم اعظم لفظ اللہ ہے اور قطب ربانی حضرت سید عبدالقادر جیلانی کے قول کے مطابق اس شرط کے ساتھ کہ زبان سے جب اللہ ادا ہو تو دل میں اللہ کے علاوہ اور کچھ نہ ہو یعنی اس اسم پاک کی تاثیر اسی وقت ہوگی جب کہ اللہ کو پکارتے وقت دل ماسوااللہ سے بالکل خالی وہ۔
اس اسم اعظم کے سلسلہ میں علماء کے اور بھی اقوال ہیں چنانچہ باب کے آخر میں وہ اسماء نقل کئے جائیں گے جن کو علماء نے اپنی اپنی رائے وتحقیق کے مطابق اسم اعظم کہا ہے۔
علماء نے سوال اور دعا میں یہ فرق نقل کیا ہے کہ سوال کے معنی ہیں طلب کرنا جیسے کہ کہا جائے اللہم اعطنی (اے اللہ مجھے فلاں چیزعطا کر) اس اس کے جواب میں اللہ کی عطا یعنی اس کا دینا اور دعا کے معنی ہیں پکارنا جیسے کہ کہا جائے یا اللہ اور اس کے (جواب میں اللہ کی طرف سے اجابت یعنی قبول کرنا ہے جیسے اللہ تعالیٰ بندہ کی پکار پر فرمائے ۔ لبیک عبدی (ہاں اے میرے بندے)
Back to top Go down
Admin
Admin & Managment
Admin & Managment
avatar

Male Capricorn Posts : 389
Points - امتياز : 1418
Thanked - ووټ : 43
Birthday : 1989-01-01
Join date : 2010-01-22
Age : 28
Location : Land of Technology
Job/hobbies : علم

PostSubject: Re: 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)   Wed Jul 21, 2010 1:30 am

Mashllah


**********

ELMOIRFAN
A PLACE FOR LEARNING AND TEACHING

_________________


«•´¨*•.¸¸.*¤~* Sheraz *~¤*.¸¸.•*¨`•»
«•´`•.(¸.•´(¸.•* *•.¸)`•.¸).•´`•»
*(¨`•.•´¨)*
`•.¸.•´

[You must be registered and logged in to see this image.]
Back to top Go down
http://elmoirfan.englishboard.net
shah khan
Senior Member
Senior Member
avatar

Posts : 124
Points - امتياز : 612
Thanked - ووټ : 9
Join date : 2010-01-23

PostSubject: Re: 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)   Wed Jul 21, 2010 5:06 am


Back to top Go down
Sponsored content




PostSubject: Re: 99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)   

Back to top Go down
 
99 name of ALLAH (Fazayel in Urdu)
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1
 Similar topics
-
» "IT Urdu PK" Review my Forum Please
» Islamic riots over "un-Islamic" art exhibition - one man dead
» Turn To Allah - Islamic Forums

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
elmoirfan علم و عرفان :: Languages :: Islam اسلام-
Jump to: